پاکستان کے ثالثی کردار پر تنقید کرنیوالے امریکی سینیٹر کے جنگی مؤقف پر سخت سوالات اٹھ گئے

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے پاکستان کے کردار پر تنقید کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ان کے جنگی مؤقف اور ماضی کی پالیسیوں پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے خطے میں ثالثی اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو بھی زیر بحث لایا جا رہا ہے۔

تبصروں میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک ایسے وقت میں خطے میں ثالثی، کشیدگی میں کمی اور ممکنہ بڑی جنگ کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے، جس کردار پر خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کا شکریہ ادا کر چکے ہیں۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ لنڈسے گراہم طویل عرصے سے دنیا بھر میں جنگی پالیسیوں کے حامی رہے ہیں اور عراق، لیبیا، شام، افغانستان، یوکرین اور ایران سمیت مختلف تنازعات میں امریکی مداخلت کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم اسرائیلی وزیر اعظم کیساتھ

مختلف تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ ہر بڑے عالمی تنازعے میں لنڈسے گراہم مزید بمباری، مزید مداخلت، مزید امریکی فنڈنگ اور مزید فوجی اقدامات کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق شاید یہی وجہ ہے کہ وہ جنگ کے معاملے پر نسبتاً آسانی سے گفتگو کرتے ہیں کیونکہ ان کے لیے جنگ ایک سیاسی مسئلہ ہے، جبکہ عام امریکی شہریوں کے لیے جنگ کا مطلب جنازے، مہنگائی، قرض، ذہنی دباؤ، ٹوٹتے خاندان اور تابوتوں میں واپس آنے والے فوجی ہیں۔

تبصروں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ لنڈسے گراہم نے خود ایک موقع پر مذاق میں کہا تھا کہ ’صحیح لڑکی اتنی سمجھدار تھی کہ اس کے پاس میرے لیے وقت نہیں تھا‘۔ ان کی کبھی شادی نہیں ہوئی، ان کے بچے نہیں ہیں اور وہ بطور سینیٹر آرام دہ زندگی گزارتے ہیں، اس لیے وہ ان مشکلات کو ذاتی طور پر محسوس نہیں کرتے جن کا سامنا متوسط طبقے کے امریکی خاندان ہر نئی جنگ کے دوران کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امن کوششوں کے خلاف مبینہ اسرائیلی پروپیگنڈا بے نقاب

تجزیوں میں کہا گیا کہ جنگوں کا اصل بوجھ فیکٹری مزدور، ٹیکس دہندگان، فوجی اہلکار اور ان کے خاندان اٹھاتے ہیں، جبکہ واشنگٹن کی ’وار کلاس‘ سیاسی فائدہ حاصل کرتی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری تبصروں کے مطابق ایک ایسا سیاستدان جس نے اپنی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ جنگوں کی حمایت میں گزارا ہو، اب اگر کسی ایسے ملک پر تنقید کرے جو امن مذاکرات اور ثالثی کی کوشش کر رہا ہو تو یہ خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو جنگ کے انسانی اور معاشی نقصانات کو سمجھ سکیں، نہ کہ ایسے سیاستدان جو عالمی سیاست کو ویڈیو گیم کی طرح دیکھتے ہوں۔

تبصروں میں مزید کہا گیا کہ 2 دہائیوں پر مشتمل ناکام جنگوں، کھربوں ڈالر کے اخراجات اور ہزاروں جانوں کے ضیاع کے بعد اصل خطرہ سفارت کاری نہیں بلکہ وہ سیاستدان ہیں جو مسلسل نئی جنگوں کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

سابق کپتان بابر اعظم کا ایک اور اعزاز، اہم سنگ میل عبور کرلیا

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں