وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں زیر تعمیر کثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیر فوری طور پر روکنے کی استدعا مسترد کر دی۔
کمرشل زمین کو رہائشی پلاٹ میں تبدیل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے کی۔
کراچی کی گلشن فیصل کوآپریٹو سوسائٹی میں زیر تعمیر عمارت سے متعلق اس مقدمےکی سماعت کے دوران کراچی میں غیرقانونی تعمیرات اور ماضی کے بڑے انہدامی کیس نسلہ ٹاور کا بھی تذکرہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی درخواست مسترد کر دی
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ گلشن فیصل میں 2 ہزار گز کا کمرشل پلاٹ تھا جسے رہائشی قرار دے کر ٹاؤن ہاؤسز تعمیر کیے گئے۔
بعد ازاں ایک بلڈر نے کچھ یونٹس خرید کر وہاں کثیرالمنزلہ عمارت کھڑی کر دی، وکیل کے مطابق اس وقت عمارت کی 9 منزلیں تعمیر ہو چکی ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ معاملے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت دیگر اداروں سے بھی رائے لی جائے۔
مزید پڑھیں: نئی گج ڈیم پر 62 ارب خرچ، کام 50 فیصد بھی مکمل نہیں، واپڈا کا آئینی عدالت میں اعتراف
تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی عموماً بلڈرز کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے دورانِ سماعت کراچی میں تعمیراتی رجحانات پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کبھی ٹاؤن ہاؤسز کا فیشن تھا، پھر 8 منزلہ عمارتیں بننے لگیں، اور اب 20 منزلہ عمارتوں کا رجحان ہے۔
مزید پڑھیں: ’ایسی کہانیاں تو فلموں میں ہوتی ہیں‘، آئینی عدالت نے جنسی زیادتی کی شکار خاتون کی درخواست خارج کر دی
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر عمارت غیرقانونی ہوئی تو اسے گرانے کا آپشن موجود ہے، اور اس ضمن میں نسلہ ٹاور کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
عدالت نے وقت کی کمی کے باعث کیس کی مزید سماعت کراچی رجسٹری میں مقرر کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔












