وفاقی آئینی عدالت نے نئی گج ڈیم تعمیراتی منصوبے میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت 11 جون تک ملتوی کردی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔
دورانِ سماعت واپڈا اور کنٹریکٹر کے وکلاء نے اپنے دلائل مکمل کرلیے، جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان آئندہ سماعت پر اپنے دلائل پیش کریں گے۔
واپڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نئی گج ڈیم منصوبے کا ابتدائی بجٹ 26 ارب روپے رکھا گیا تھا، تاہم کنٹریکٹر اس رقم کے علاوہ 36 ارب روپے اضافی وصول کرچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئی گج ڈیم کیس: آئینی عدالت کی واپڈا اور کنٹریکٹر کو مذاکرات کی ہدایت
ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود منصوبے کا 50 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے کنٹریکٹر کو منصوبے کی تکمیل کے لیے ایک ٹائم فریم بھی دیا تھا، لیکن اس کے باوجود منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب کنٹریکٹر کے وکیل مسعود خان نے عدالت کو بتایا کہ 2019 میں سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ منصوبے کا 50 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی واضح طور پر درج ہے کہ منصوبے میں تاخیر کی بنیادی وجہ فنڈز کی عدم فراہمی تھی۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے نئی گچ ڈیم منصوبے کی لاگت پر رپورٹ طلب کرلی
ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے منصوبے کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے، جس کے باعث تعمیراتی کام متاثر ہوا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ گج ڈیم منصوبہ 2011 میں 26 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا، تاہم مالی مشکلات کے باعث منصوبہ مسلسل تاخیر کا شکار رہا۔
کنٹریکٹر کے مطابق 2024 سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث منصوبے پر کام بھی بند ہے۔














