پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے پاکستان کا پانی روکنے یا اس کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش کی تو اسے انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا اور ایسا کوئی بھی عمل پاکستان کے خلاف ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بھارتی وزیر آبی وسائل سی آر پٹیل کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے کی کسی بھی کوشش کو بین الاقوامی قوانین اور سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’پاکستان اپنی معیشت، قومی مفادات اور 25 کروڑ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا‘۔
بھارت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، پاکستان
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنے بین الاقوامی وعدوں اور معاہدے کے مطابق ذمہ داریوں کا احترام کرے اور ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب بھارتی وزیر آبی وسائل سی آر پٹیل نے کہا تھا کہ نئی دہلی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے کہ ’پاکستان کی طرف پانی کا ایک قطرہ بھی نہ جائے‘۔
سندھ طاس معاہدہ خطے کے لیے اہم معاہدہ
دفتر خارجہ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ خطے کے اہم ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے، جو 6 دریاؤں کے پانی کے استعمال کو منظم کرتا ہے۔ ان دریاؤں کے منبع بھارت میں واقع ہیں، تاہم یہ پاکستان سمیت دریائے سندھ کے پورے آبی نظام کا حصہ ہیں اور کروڑوں افراد کے روزگار، زراعت اور پانی کی ضروریات ان سے وابستہ ہیں۔
پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ لاکھوں افراد کے معاشی اور انسانی مفادات کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی مؤقف مسترد
ترجمان دفتر خارجہ نے آزاد جموں کشمیر کے بارے میں بھارتی بیانات کو بھی یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر اور مقبوضہ جموں کشمیر کی صورتحال میں فرق کو جان بوجھ کر نظر انداز کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں کشمیر ایک متنازع اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے جہاں کشمیری عوام کو سخت قوانین، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور حق خودارادیت سے محرومی کا سامنا ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ اس کے برعکس آزاد جموں کشمیر میں عوامی مسائل کا حل جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے تحت تلاش کیا جا رہا ہے۔
بھارت کی عسکری صلاحیتوں پر بھی تشویش کا اظہار
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بین الاقوامی ادارے کی حالیہ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق پاکستان کے ان خدشات کی تصدیق کرتے ہیں جو بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری اور اسٹرٹیجک صلاحیتوں کے حوالے سے مسلسل ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے یا ہتھیاروں اور وارہیڈز کی تعداد میں مقابلے کا خواہاں نہیں، تاہم خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں اسٹرٹیجک استحکام برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مقصد امن، استحکام اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا ہے، تاہم قومی سلامتی اور اہم مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔














