فرانس کے عظیم سابق فٹبالر اور سنہ 1998 ورلڈ کپ کے فاتح کپتان زین الدین زیدان کو فرانسیسی قومی فٹبال ٹیم کا نیا ہیڈ کوچ مقرر کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فٹبال کے بعد ہالی ووڈ، کرسٹیانو رونالڈو اداکاری کے میدان میں اترنے کو تیار
فرانس فٹبال فیڈریشن نے منگل کو اعلان کیا کہ زیدان نے موجودہ کوچ دیدیئے دیشامپ کی جگہ سنبھال لی ہے اور ان کے ساتھ 4 سالہ معاہدہ کیا گیا ہے۔
زیدان کی تقرری ان کے طویل عرصے سے جاری خواب کی تکمیل قرار دی جا رہی ہے کیونکہ سابق ریئل میڈرڈ کوچ کئی برسوں سے فرانس کی قومی ٹیم کی کوچنگ کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
دیدیئے دیشامپ کا 14 سالہ دور ورلڈ کپ 2026 میں فرانس کی چوتھی پوزیشن کے ساتھ اختتام پذیر ہوا تھا۔ ان کا آخری میچ انگلینڈ کے خلاف تھا جس میں فرانس کو 6-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
زیدان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی قومی ٹیم کی کوچنگ ہی وہ واحد ذمہ داری تھی جو وہ سنبھالنا چاہتے تھے۔
مزید پڑھیے: اسپین کے فٹبال ورلڈ کپ ہیروز کو ٹماٹروں میں کیوں تولا گیا، یہ دلچسپ روایت کب سے شروع ہوئی؟
انہوں نے کہا کہ فرانس کی ٹیم ہی وہ واحد چیز تھی جو میں کرنا چاہتا تھا۔ میں ہمیشہ اس ٹیم کو مستقبل کے کوچ کی نظر سے دیکھتا رہا۔ اسی وجہ سے میں نے کوئی کلب ملازمت قبول نہیں کی۔ ریئل میڈرڈ کے بعد میری واحد خواہش فرانس کی قومی ٹیم کو کوچ کرنا تھی۔
زیدان نے بتایا کہ جب دیشامپ نے جنوری 2025 میں اپنا فیصلہ کیا تو اگلے ہی دن انہوں نے طے کرلیا تھا کہ وہ قومی ٹیم کے اگلے کوچ بننا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے فیڈریشن کے صدر سے ملاقات کی اور معاہدہ طے پا گیا۔
مزید پڑھیں: انگلینڈ کے فٹبال لیجنڈ کیون کیگن 75 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
54 سالہ زیدان اپنی نئی ذمہ داری کا آغاز یوئیفا نیشنز لیگ کے ایک میچ سے کریں گے جہاں فرانس کا مقابلہ ترکیہ کے خلاف اس کے ہوم گراؤنڈ سے باہر ہوگا۔ اس کے بعد فرانس 2 اکتوبر کو پیرس کے اسٹیڈ ڈی فرانس میں اٹلی کی میزبانی کرے گا۔
دیشامپ کا شاندار دور
دیدیئے دیشامپ نے فرانس کی کوچنگ 14 سال تک کی اور اس دوران انہوں نے ٹیم کو 185 میچز میں میدان میں اتارا جن میں فرانس نے 120 کامیابیاں حاصل کیں۔
ان کے دور میں فرانس نے سال 2018 کا فیفا ورلڈ کپ، سال 2020-21 یوئیفا نیشنز لیگ ٹرافی جیتی جبکہ یورو 2016 اور ورلڈ کپ 2022 کے فائنلز تک بھی رسائی حاصل کی۔
زیدان اور دیشامپ کے درمیان تعلق بھی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ دونوں سنہ 1998 میں فرانس میں ہونے والے ورلڈ کپ کے فاتح اسکواڈ میں ساتھی کھلاڑی تھے۔
زیدان نے اس تاریخی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اسی سال انہیں دنیا کے بہترین فٹبالر کا اعزاز بیلن ڈی اور بھی ملا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: زیدان اقبال فیفا ورلڈ کپ کھیلنے والے پہلے پاکستانی نژاد فٹبالر بن گئے
فرانس کے لیے زیدان کی تقرری کو ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ایک عظیم کھلاڑی اب قومی ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے اپنی صلاحیتیں آزمانے جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ سال 2006 فیفا ورلڈ کپ فائنل میں زیدان نے اٹلی کے کھلاڑی مارکو ماتیراتزی کو سر سے ٹکر ماری تھی۔ یہ واقعہ فٹبال کی تاریخ کے سب سے مشہور اور متنازع لمحات میں شمار ہوتا ہے۔
فائنل میچ کے اضافی وقت میں زیدان اور ماتیراتزی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ ماتیراتزی نے بعد میں اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے زیدان کی بہن کے بارے میں نامناسب بات کی تھی جس پر زیدان شدید غصے میں آئے اور انہوں نے ماتیراتزی کے سینے پر سر مار دیا۔ تاہم زیدان نے کہا تھا کہ معاملہ صرف ایک جملے تک محدود نہیں تھا بلکہ مسلسل اشتعال دلانے کے بعد ردعمل سامنے آیا۔ واضح رہے کہ وہ زیدان کی بہن پر کوئی الزام نہیں تھا بلکہ غصے میں گالم گلوچ کے انداز میں ماتیراتزی نے بدزبانی کی جس پر زیدان آپے سے باہر ہوگئے تھے۔
مزید پڑھیں: کراچی سو رہا تھا، مگر ’منی برازیل‘ جاگ رہا تھا، لیاری میں فٹبال فائنل کی رات کیسی گزری؟
اس واقعے پر زیدان کو ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا جبکہ فرانس آخرکار پنالٹی شوٹ آؤٹ میں اٹلی سے ہار گیا۔ بعد میں ماتیراتزی نے کہا تھا کہ انہیں اپنے الفاظ پر افسوس ہے جبکہ زیدان نے بھی تسلیم کیا کہ ان کا ردعمل درست نہیں تھا لیکن انہوں نے کہا کہ وہ ایسے الفاظ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔














