امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی اہم اور حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ ترین ایرانی قیادت تک پہنچنے اور وہاں سے معاہدے کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف ‘آج رات’ طے شدہ فضائی حملے اور بمباری کے احکامات منسوخ کر دیے ہیں۔
طے شدہ معاہدے کے اہم نکات اور اتحادی ممالک
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے ایک خصوصی بیان میں صدر ٹرمپ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے اہم نکات پر تمام متعلقہ فریقین نے اصولی اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی میں شدت، ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ
ان کے مطابق اس وسیع البنیاد امن عمل میں امریکا کے ساتھ ساتھ اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر اہم ممالک بھی شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب کے وقت اور مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
🚨 President Donald J. Trump on cancelled scheduled strikes against Iran. pic.twitter.com/iIijh6j5m2
— The White House (@WhiteHouse) June 11, 2026
بحری ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی
امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگرچہ فوجی کارروائی اور بمباری کا فیصلہ فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے، تاہم ایران کے خلاف نافذ ‘بحری ناکہ بندی’ بدستور برقرار رہے گی۔ یہ ناکہ بندی اس وقت تک نافذ العمل رہے گی جب تک معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر عملدرآمد شروع نہیں ہو جاتا۔
ایران اور دیگر ممالک کا مؤقف
دوسری جانب، امریکی صدر کے اس سنسنی خیز دعوے پر ایران یا اس عمل میں نامزد دیگر متعلقہ ممالک کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا اعلان: ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے 10 دن کے لیے موخر
واضح رہے کہ امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ابلتے ہوئے نقطے پر پہنچ چکی تھی اور عالمی برادری دونوں ممالک پر مسلسل زور دے رہی تھی کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملے کا سفارتی حل تلاش کریں۔














