وفاقی بجٹ 27-2026: کس شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد مستفید ہوں گے؟

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تنخواہ دار متوسط طبقے، تعمیراتی و رئیل اسٹیٹ سیکٹر، چھوٹے تاجروں اور آئی ٹی صنعت کے لیے مراعات کا اعلان کیا ہے۔

زیادہ آمدنی والے افراد، نان فائلرز اور بینکوں میں سرمایہ رکھنے والے افراد پر اضافی ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔ زیادہ آمدنی والے افراد مثلاً 2 ہزار اور 3 ہزار سی سی گاڑیوں کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کا اطلاق 2 کروڑ سے زیادہ مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی ہوگا۔

تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف

بجٹ تجاویز کے مطابق حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے انکم ٹیکس میں کمی کی ہے۔ سالانہ قریباً 22 لاکھ روپے تک آمدنی رکھنے والے ملازمین پر شرح 23 فیصد سے کم ہوکر 20 فیصد جبکہ 32 سے 41 لاکھ سالانہ کمانے والوں پر شرح ٹیکس 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

41 سے 56 لاکھ تنخواہ لینے والوں پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج بھی ختم

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں کہاکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح کم کرنے کے علاوہ ان پر عائد سرچارج بھی مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وفاقی وزیرخزانہ کے مطابق یہ اقدامات وزیراعظم کی جانب سے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کے لیے مراعات

حکومت نے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے ہیں۔ پراپرٹی کی خریداری پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

فائلرز کے لیے یہ شرح 2.5 سے کم ہوکر 1.25 اور فروخت کے لیے 5.5 سے کرکے 2.75 کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کمرشل جائیدادوں کی منتقلی پر عائد 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

چھوٹے تاجروں کے لیے آسان ٹیکس نظام

بجٹ میں چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے ایک خصوصی ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت انہیں غیر ضروری آڈٹ اور پیچیدہ دستاویزی تقاضوں سے ریلیف ملے گا۔

حکومتی مؤقف کے مطابق اس اقدام کا مقصد چھوٹے کاروباری طبقے کو ڈاکیومینٹڈ معیشت کا حصہ بنانا اور ان کے کاروباری اخراجات میں کمی لانا ہے۔

اس اسکیم کے تحت سالانہ 20 کروڑ سیل (فروخت) کرنے والے تاجر سالانہ ایک فیصد ادا کریں گے اور اِس کو ود ہولڈنگ ٹیکس میں ایدجسٹ بھی کرا سکیں گے لیکن فائل کرتے وقت وہ 25 ہزار ادا کریں گے۔

اس اسکیم میں شامل تاجروں کو سبز رنگ کی تختی دی جائے گی جس پر کیو آر کوڈ ہوگا اور ایف بی آر اہلکار اس دکان میں نہیں جا سکیں گے۔

آئی ٹی، ٹیلی کام، ڈیجیٹل معیشت اور برآمدات کی حوصلہ افزائی

حکومت نے 5 جی ٹیکنالوجی، آئی ٹی خدمات اور جدید طبی تشخیصی آلات کے فروغ کے لیے متعلقہ مشینری اور آلات پر درآمدی ڈیوٹی میں رعایت دینے کی تجویز دی ہے۔

آئی ٹی اور آئی ٹی برآمدات کے شعبے میں فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاؤسز اور ڈیجیٹل ایکسپورٹرز کی آمدنی پر 0.25 فیصد کی رعایت جو ختم ہونے والی تھی اس کو 3 سال کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔

برآمدی شعبے کے لیے مثبت اقدامات

برآمد کنندگان کے لیے بھی بجٹ میں اہم مراعات تجویز کی گئی ہیں۔ حکومت نے برآمدات پر عائد ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح 2 فیصد ٹیکس سے کم کرکے 1.25 ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس سے ایکسپورٹرز کی لیکویڈیٹی بہتر ہوگی اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بڑھانے میں مدد ملے گی۔

بیرونِ ملک ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ پر عائد 5 فیصد ٹیکس کم کر کے 0.5 فیصد کیے جانے کی تجویز ہے، جبکہ صنعتی ترقی کو بڑھانے کے لیے 6.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ 15 سے 50 کروڑ آمدنی والے افراد پر عائد سپر ٹیکس بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی