ڈونلڈ ٹرمپ کا طبی معائنہ: ڈاکٹروں کی ریکارڈ تعداد نے تفصیلی جانچ کی، اصل وجہ کیا ہے؟

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ سالانہ طبی معائنے نے غیر معمولی توجہ حاصل کر لی ہے کیونکہ اس مرتبہ ان کے طبی جائزے میں 22 ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے حصہ لیا جو امریکی صدور کے معمول کے طبی معائنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تعداد سمجھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تعداد گزشتہ معائنوں کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے اور بعض مبصرین کے مطابق کسی امریکی صدر کے طبی معائنے میں شامل ماہرین کی یہ اب تک کی سب سے بڑی ٹیم ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ سے قبل ہونے والے اس تفصیلی طبی معائنے نے نہ صرف ان کی صحت بلکہ ان کی جسمانی اور ذہنی استعداد سے متعلق بحث کو بھی دوبارہ جنم دیا ہے۔

بعض طبی ماہرین نے اتنی بڑی تعداد میں ماہرین کی شمولیت کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامع طبی جانچ کا مقصد اعلیٰ سطح کی طبی نگرانی اور بہترین طبی طریقہ کار کو یقینی بنانا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق 22 ماہرین میں بعض عمومی معالج بھی شامل تھے تاکہ صدر کی مجموعی صحت کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

صدر ٹرمپ کے معالج ڈاکٹر شان باربابیلا کے مطابق صدر مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ان کی طبی حالت بہترین ہے۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے معائنے کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ تمام ٹیسٹ بہترین آئے ہیں۔

مزید پڑھیے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صحت کا معاملہ، ایک اور طبی معائنہ متوقع

اس کے باوجود معائنے کی تفصیلات اور اس کی نوعیت کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ کا ایک اضافی طبی معائنہ بھی کیا گیا جس میں کمپیوٹرائزڈ اسکین شامل تھا۔ ابتدائی طور پر اس اسکین کو ایم آر آئی قرار دیا گیا تھا تاہم بعد میں بتایا گیا کہ یہ دراصل سی ٹی اسکین تھا۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی تازہ طبی تاریخ میں فناسٹرائیڈ نامی دوا کا ذکر موجود نہیں جو ماضی میں بالوں کے گرنے کی روک تھام کے لیے استعمال کی جاتی رہی تھی۔

دوسری جانب امریکی عوام کے ایک حصے میں صدر کی صحت سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 59 فیصد افراد نے صدر ٹرمپ کی ذہنی صلاحیتوں کے بارے میں غیر یقینی کا اظہار کیا جبکہ 55 فیصد افراد نے ان کی جسمانی استعداد کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے۔

مزید پڑھیں: سگے بیٹے کی شادی میں شرکت کیوں نہیں کی؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے وجہ بتا دی

حالیہ ہفتوں میں سوشل میڈیا پر بھی صدر ٹرمپ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب بعض ویڈیوز میں وہ مختلف تقریبات کے دوران غنودگی کی کیفیت میں دکھائی دیے۔ ناقدین نے ان کے ہاتھ پر نظر آنے والے نشانات اور اہم تقریبات کے دوران ممکنہ تھکاوٹ کو بھی موضوعِ بحث بنایا۔

تاہم وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ صدر کی صحت کے حوالے سے چھپانے کے لیے کچھ نہیں اور تمام طبی رپورٹس واضح طور پر ان کی اچھی صحت کی تصدیق کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا منفرد انداز، 80ویں سالگرہ پر وائٹ ہاؤس میں مکسڈ مارشل آرٹس مقابلہ

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 14 جون کو 80 برس کے ہوجائیں گے جس کے بعد وہ امریکی تاریخ کے معمر ترین صدر بن جائیں گے۔ عمر کے اس پہلو کے باعث ان کی صحت اور طبی معائنے بدستور عوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp