امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج واشنگٹن کے والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر میں طبی اور دندان سازی کے معمول کے معائنے سے گزریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ان لوگوں پر ہنستا ہوں جو امریکا ایران معاہدے پر حقائق جانے بغیر رائے دے رہے ہیں، ٹرمپ سیاسی مخالفین پر برس پڑے
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق گزشتہ 13 ماہ کے دوران یہ ان کا تیسرا شیڈولڈ طبی معائنہ ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ معائنے معمول کی سالانہ یا ششماہی احتیاطی طبی جانچ کا حصہ ہیں تاہم قریباً 80 برس کی عمر میں ان دوروں کی بڑھتی تعداد نے آزاد طبی ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے۔
حالیہ مہینوں میں میڈیا میں ٹرمپ کے ہاتھوں پر نمایاں نشانات، خراشوں اور بعض مواقع پر پٹی بندھی تصاویر سامنے آنے کے بعد ان کی صحت پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی۔
مزید پڑھیے: ایران کے ساتھ مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، معاہدے تک ناکہ بندی جاری رہے گی، ڈونلڈ ٹرمپ
طبی ریکارڈز کے مطابق ٹرمپ کو کرونک وینس اِن سفیشنسی کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ روزانہ 325 ملی گرام اسپرین اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کے لیے روزوواسٹاٹن استعمال کرتے ہیں۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس کے معالجین ماضی میں ان کے قلبی، پھیپھڑوں اور اعصابی نظام کو بہترین قرار دیتے رہے ہیں مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ بار بار طبی معائنوں کے باعث صدر کی مجموعی صحت سے متعلق شفاف معلومات کا سامنے آنا ضروری ہیں۔
وائٹ ہاؤس حکام کا مؤقف ہے کہ ہاتھوں پر آنے والے نشانات کی وجہ مسلسل مصافحہ اور اسپرین کے استعمال کے باعث جلد پر پڑنے والے اثرات ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ چکے، ڈونلڈ ٹرمپ
آئندہ صدارتی سرگرمیوں کے تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صحت سے متعلق ہر نئی طبی رپورٹ سیاسی اور عوامی حلقوں میں خاص اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔














