ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ قریب آ چکا ہے، تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے اور مجوزہ دستاویز مختلف مراحل کی جانچ پڑتال سے گزر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا، ایران امن معاہدے کا مجوزہ مسودہ سامنے آگیا، جنگ بندی میں 60 روز توسیع کی تجویز
ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان اور بعد ازاں ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ زیر غور معاہدہ 2 مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) طے کی جائے گی جس کے تحت لڑائی روکنے، لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں ختم کرنے اور مستقبل میں حملے نہ کرنے کی یقین دہانیاں شامل ہوں گی۔
Iranian FM Araghchi says a ceasefire deal with the US includes the release of seized Iranian funds. He also wrote on X that an agreement to permanently end the US-Israeli war on Iran has "never been closer". pic.twitter.com/oINBlaZqSq
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 13, 2026
عباس عراقچی کے مطابق دوسرے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور دیگر اہم امور پر تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی خودمختاری میں رہے گی، تاہم اس کے انتظامی معاملات کے حوالے سے نئی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ یادداشت ابھی مختلف اداروں کے زیر غور ہے اور امریکا پر گہرے عدم اعتماد کے باعث تمام نکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے ماضی میں جاری مذاکرات کے دوران بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں کیں، جس کے باعث تہران محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران ممکنہ معاہدہ، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کی ٹوئٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کردی
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایک مختصر پیغام میں کہا کہ جو وعدے کیے جائیں، ان پر عمل بھی ہونا چاہیے اور مجوزہ معاہدے کی کامیابی کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔
امریکی حکام نے بھی اعتراف کیا ہے کہ فریقین کسی سمجھوتے کے ’بہت قریب‘ پہنچ چکے ہیں، تاہم ابھی چند اہم نکات پر اتفاق باقی ہے۔ امریکی مؤقف کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو پابندیوں میں نمایاں نرمی اور منجمد اثاثوں تک رسائی دی جا سکتی ہے، لیکن اس کے بدلے تہران کو اپنے جوہری پروگرام سے متعلق سخت شرائط قبول کرنا ہوں گی۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ معاہدے پر دستخط آئندہ چند روز میں ہو سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی اور محدود فوجی حملوں کے باوجود سفارتی رابطے تیزی سے جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی منڈیوں میں استحکام آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔














