ایران اور اسرائیل کے درمیان تاریخ کی پہلی براہِ راست اور کھلی جنگ کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد مبصرین اور ماہرینِ امورِ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اس تنازع نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، سفارت اور سیکیورٹی کے مروجہ قواعد کو بنیادی طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔
روس کے سرکار ٹی وی نیٹ ورک ’آرٹی‘ نے ایک ایسا مضمون شائع کیا ہے جس میں ایران اسرائیل جنگ سے متعلق اہم انکشافات کیے گئے ہیں، ’آرٹی‘ کے مطابق دہائیوں سے جاری بالواسطہ یا ’خفیہ جنگ‘ کا اب باقاعدہ خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
ایران اسرائیل دہائیوں پرانی خفیہ دشمنی
’آر ٹی ‘ کے مضمون کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا موڑ پچھلے سال 13 جون 2025 کو آیا تھا، جب اسرائیل نے دہائیوں پرانی خفیہ دشمنی کو سامنے رکھتے ہوئے ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات سے وابستہ حساس مقامات پر براہِ راست فضائی حملے کیے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل ایران پر نئے حملوں کی تیاری میں مصروف، اگلے ہفتے کارروائی کا امکان، نیویارک ٹائمز
ان حملوں کے ساتھ ہی برسوں سے جاری وہ خفیہ معرکہ آرائی کھلے فوجی تصادم میں بدل گئی جو اس سے قبل صرف سائبر حملوں، اقتصادی پابندیوں، پراکسی گروپوں، سفارتی دباؤ اور محدود نوعیت کی خفیہ کارروائیوں تک محدود تھی۔
’آر ٹی ‘ میں شائع مضمون کے مطابق اسرائیل کا بنیادی مقصد ان حملوں کے ذریعے ایران کی اسٹرٹیجک اور دفاعی صلاحیتوں کو ایسا نقصان پہنچانا تھا جس سے وہ مفلوج ہو جائے، تاہم توقعات کے برعکس تہران نہ تو سیاسی طور پر کمزور ہوا اور نہ ہی اس نے پسپائی اختیار کی۔
’آر ٹی‘ کے مطابق ایران نے فوری اور مؤثر جوابی عسکری کارروائی کے ذریعے دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ شدید ترین دباؤ کو برداشت کرنے اور اس کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
حماس اپنے اہداف اور پالیسی رکھتا ہے
اکتوبر 2023 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اگرچہ بعض اسرائیلی حکام نے حماس کو ایران کا نمائندہ قرار دیا، تاہم کئی تجزیہ کاروں کے مطابق حماس اپنی الگ سیاسی حکمتِ عملی اور اہداف رکھتی ہے۔ اس کے باوجود اس بحران نے ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات کو مزید تقویت دی۔
جوہری تنازع اور آئی اے ای اے کا کردار
جنگ سے قبل بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ’آئی اے ای اے‘ کا کردار بھی شدید بحث کا موضوع بنا رہا۔ ایران کے جوہری پروگرام میں شفافیت سے متعلق ایجنسی کی رپورٹس نے تہران پر عالمی دباؤ بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا کہ ایجنسی کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ایران فعال طور پر جوہری ہتھیار تیار کر رہا تھا۔
ایران اور اس کے حامیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو فوجی کارروائی کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا، جس سے بین الاقوامی اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھے۔
اسرائیل کا ہدف کیا تھا ؟
اسرائیل کا مقصد ایران کی اسٹرٹجک صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانا تھا اوراس میں سب سے اہم بات ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای تھے، تاہم آیت اللہ علی خامنہ ای سےزیادہ ایران کے اسٹرٹیجک اثاثے ہدف تھے۔
تاہم توقعات کے برعکس ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا کہ وہ شدید دباؤ برداشت کرنے اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کی عسکری طاقت بلکہ ریاستی استحکام، اتحادوں اور عوامی یکجہتی کا بھی امتحان لیا۔
مزید پڑھیں:جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اسرائیل اور ایران دونوں سے خوش نہیں ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی، لیکن یہ معاہدہ تنازع کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ بداعتمادی برقرار رہی اور مستقبل میں دوبارہ کشیدگی کے خدشات بھی ختم نہ ہو سکے۔
کیا یہ صرف ایک وقفہ تھا؟
’آر ٹی‘ نے لکھا کہ مبصرین کے مطابق جون 2025 کی جنگ دراصل ایک بڑے تصادم کی ’آزمائش‘ تھی، نہ کہ اس تنازع کا اختتام۔ اگرچہ ایران کو فوجی، سیاسی اور بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے نقصان اٹھانا پڑا، لیکن وہ اپنی دفاعی اور علاقائی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔
اس دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا تھا، اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں ہوئی۔ 2026 کے دوران دوبارہ ابھرنے والی کشیدگی نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ یہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا اور مستقبل میں ایک نئی محاذ آرائی کا امکان موجود ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نیا دور
’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ جون 2025 کی جنگ نے خطے کی سیاسی اور سکیورٹی حکمتِ عملیوں کو بدل کر رکھ دیا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب براہِ راست تصادم ایک حقیقت بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نیتن یاہو نہیں، فیصلے میں کرتا ہوں؛ اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران سے معاہدہ قریب ہے، ٹرمپ
ایران کے لیے یہ جنگ قومی عزم اور مزاحمت کی علامت بن گئی، جبکہ اسرائیل کے لیے یہ اس کی پیشگی فوجی کارروائیوں کی پالیسی کا اہم امتحان ثابت ہوئی۔ دونوں ممالک نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، لیکن ساتھ ہی ایک بڑے علاقائی بحران کے خطرات بھی واضح ہو گئے، جس میں آج مشرقِ وسطیٰ سب سے زیادہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔
ایک سال بعد بھی سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا خطہ مستقبل میں کسی اور بڑی جنگ سے بچ سکے گا یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پچھلی جنگ ختم ہو چکی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگلی جنگ کی نوعیت کیا ہوگی اور اس کے اثرات کتنے وسیع ہوں گے۔














