امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں اور اگلے ہفتے حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا۔
As Iran talks stall, Israel and US prepping to renew war as soon as next week – report
Commandos could be put on the ground to extract nuclear material, US officials tell New York Times; senior Israeli official reportedly says fighting would last ‘days to weeks’
By ToI Staff, 16… pic.twitter.com/zx4XTVg443— rbg4lif 🟥⬛🟩 (@rbg4lif) May 17, 2026
رپورٹ کے مطابق ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں، جبکہ اپریل میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کے مطالبات کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران جنگ: کیا عالمی نظام بدلنے والا ہے؟
نیویارک ٹائمز نے مشرقِ وسطیٰ کے دو نامعلوم عہدیداروں کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے نئی فوجی کارروائیوں کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں اور حملے جلد دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ منصوبوں میں ایرانی فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر ’زیادہ شدید فضائی حملے‘ شامل ہیں، جبکہ ایک آپشن ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر قبضے کی کارروائی بھی بتائی جا رہی ہے، جو مبینہ طور پر زیرِ زمین محفوظ کیے گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو ’بیکار‘ قرار دیتے ہوئے موجودہ جنگ بندی کو ’انتہائی کمزور‘ کہا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کو امریکا پر اعتماد کی کوئی وجہ نہیں، تاہم ایران اب بھی سفارتی حل کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور امریکا کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کا کردار، امریکی رکن کانگریس کا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے نام تعریفی خط
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ شدید متاثر ہو رہی ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں تیل کی قلت کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔














