فیفا ورلڈ کپ کا آغاز، سیاسی تنازعات اور سفری پابندیاں، کیا یہ عالمی میلہ دُنیا کی توجہ حاصل کر پائے گا؟

اتوار 14 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیاسی تنازعات، سفری پابندیوں اور سیکیورٹی خدشات کے سائے میں ’فیفا ورلڈ کپ 2026‘کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ دنیا کے اس سب سے بڑے فٹ بال ایونٹ کی رونق اگرچہ انتظامی اور سیاسی مسائل کے باعث کچھ ماند دکھائی دے رہی ہے، مگر میدان میں اترنے والے عالمی فٹبال ستاروں کی موجودگی جلد ہی شائقین کو اپنی طرف متوجہ کر دے گی۔

ورلڈ کپ کا باقاعدہ افتتاح میکسیکو سٹی کے تاریخی ’استادیو ازٹیکا‘ اسٹیڈیم میں ہوا، جسے دنیا کا پہلا ایسا اسٹیڈیم ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے جس نے 3 مختلف ورلڈ کپ مقابلوں کی میزبانی کی ہے۔

عام طور پر یہ ایونٹ دنیا بھر کی ثقافتوں کو یکجا کرتا ہے، مگر اس بار افتتاحی مرحلے پر جوش و خروش کے بجائے بے چینی اور تقسیم کا تاثر نمایاں رہا۔

سفری پابندیاں اور ویزا مسائل، شائقین اور ٹیمیں مشکلات کا شکار

ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل ہی کئی ممالک کے شائقین کو امریکا کی سخت سفری پابندیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہیٹی، ایران، آئیوری کوسٹ اور سینیگال کے متعدد فٹ بال فینز امریکا میں داخل نہیں ہو سکے، جبکہ جمہوریہ کانگو کے شائقین ’ایبولا‘ وائرس سے متعلق پابندیوں کی زد میں آئے۔

یہ بھی پڑھیں:فٹبال ورلڈ کپ 2026: کینیڈا میں رنگا رنگ افتتاحی تقریب، معروف گلوکاروں کی پرفارمنس نے سماں باندھ دیا

سیاسی کشیدگی کا سب سے بڑا اثر ایرانی ٹیم پر پڑا، جسے امریکی ویزوں کے اجرا میں تاخیر کے باعث اپنا تربیتی کیمپ میکسیکو منتقل کرنا پڑا۔

ایرانی ٹیم کے تمام گروپ میچز امریکا کے مغربی ساحل پر شیڈول ہیں، تاہم ایک خصوصی انتظام کے تحت صرف کھلاڑیوں کو ‘میچ کے دن’ امریکا میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ ٹیم آفیشلز اس سہولت سے محروم رہے ہیں۔

مزید برآں افریقی اور مشرقِ وسطیٰ کے وفود کو امریکی ہوائی اڈوں پر گھنٹوں روکے رکھا گیا اور صومالیہ کے ممتاز ریفری کو ویزا ہی جاری نہیں کیا گیا۔ اس دوران انگلینڈ کی ٹیم کے تربیتی مرکز ‘کنساس سٹی’ کے قریب فائرنگ کے واقعے نے سیکیورٹی خدشات کو مزید ہوا دی ہے۔

فرانس اور اسپین، نوجوان ستاروں اور تجربے کا امتزاج

میدان کی بات کی جائے تو فرانس مسلسل تیسرے ورلڈ کپ میں ایک انتہائی مضبوط اسکواڈ کے ساتھ اترا ہے۔ کپتان کیلین ایمباپے کی قیادت میں فرانسیسی فارورڈ لائن میں بیلن ڈور یافتہ عثمان ڈیمبیلے اور مائیکل اولیزے شامل ہیں۔

 ٹیم میں ٹیلنٹ کی اس حد تک فراوانی ہے کہ پی ایس جی کے اسٹار ڈیزائرے دوئے کو بھی الیون میں مستقل جگہ نہیں مل سکی۔ کوچ دیدیئے دیشانپ، جو گزشتہ 2 ورلڈ کپ فائنلز کھیل چکے ہیں، ایک بار پھر ٹائٹل کے مضبوط دعویدار ہیں۔

دوسری جانب یورپی چیمپیئن اسپین کی امیدوں کا محور 18 سالہ نوجوان لامین یامال اور نیکو ولیمز کی جوڑی ہے۔ مڈفیلڈ میں بیلن ڈور فاتح روڈری، پیڈری اور فابیان روئز ٹیم کو استحکام فراہم کر رہے ہیں جبکہ دفاع کی کمان نوجوان پاؤ کوبارسی کے ہاتھوں میں ہے۔

میسی اور رونالڈو کا ’آخری مشن‘، ارجنٹینا اور پرتگال کی تیاریاں

موجودہ عالمی چیمپیئن ارجنٹینا اپنے اعزاز کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ تمام نظریں لیونل میسی پر ہیں جو اپنے کیریئر کا چھٹا اور آخری ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں۔ ارجنٹینا کے اسکواڈ میں 2022 کے فاتح اسکواڈ کے 16 کھلاڑی شامل ہیں، جن میں گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز نمایاں ہیں۔ ارجنٹائنی عوام اپنے اس عظیم کھلاڑی کو یادگار الوداعی تحفہ دینے کے منتظر ہیں۔

مزید پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ 2026:  میٹا نے انسٹاگرام، واٹس ایپ اور فیس بک کے نئے فیچرز متعارف کرا دیے

میسی کے روایتی حریف 41 سالہ کرسٹیانو رونالڈو بھی اپنے چھٹے اور آخری ورلڈ کپ مشن پر ہیں۔ حال ہی میں ’نیشنز لیگ‘ جیتنے والی پرتگالی ٹیم اپنی تاریخ کے مضبوط ترین اسکواڈ کے ساتھ پہلی بار عالمی تاج جیتنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ رونالڈو کے ساتھ برنارڈو سلوا، رافائل لیاؤ اور برونو فرنینڈس جیسے اسٹارز الیون کا حصہ ہیں۔

انگلینڈ کا انتظار اور برازیل میں ’اینچیلوٹی دور‘ کا آغاز

انگلینڈ کی ٹیم نئے کوچ تھامس ٹوخل کی نگرانی میں ایک بار پھر بڑے اعزاز کا قحط ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ تاہم، ٹوخل کے بعض فیصلے متنازع رہے ہیں، جہاں انہوں نے کول پالمر، فل فوڈن اور ٹرینٹ الیگزینڈر آرنلڈ کو ڈراپ کر کے جارڈن ہینڈرسن اور آئیون ٹونی کو اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔

5 مرتبہ کی عالمی چیمپیئن برازیل نے معروف اطالوی کوچ کارلو اینچیلوٹی کی قیادت میں نئے سفر کا آغاز کیا ہے۔ برازیل نے اپنے اسٹار کھلاڑی نیمار کو ان کے آخری ورلڈ کپ کے لیے اسکواڈ کا حصہ بنایا ہے، جہاں انہیں وینیسیئس جونیئر اور رافینیا کی معاونت حاصل رہے گی۔

چھوٹی ٹیموں کی واپسی اور سنسنی خیز مقابلے کی امید

ٹورنامنٹ میں ناروے کی ٹیم 28 سال بعد ایرلنگ ہالینڈ کی قیادت میں واپس آئی ہے، جبکہ ترکیہ کی نوجوان ٹیم آردا گولر کی رہنمائی میں 2002 کے بعد پہلی بار ایکشن میں نظر آئے گی۔ جرمنی کی غیر متوقع ٹیم مینوئل نوئیر اور جمال موسیالا کی واپسی سے مضبوط ہوئی ہے، جبکہ کروشیا کے لوکا موڈرچ اور مصر کے محمد صلاح کے لیے بھی یہ آخری ورلڈ کپ ثابت ہو سکتا ہے۔

سیاسی اور سفری تنازعات کے باوجود، اب کھیل میدان میں آ چکا ہے اور اگلے 40 دنوں تک دنیا کے بہترین کھلاڑی فٹ بال کے سب سے بڑے اعزاز کے لیے لڑیں گے۔ اگر میدان کا جادو چل گیا، تو یہ تنازعات پسِ منظر میں چلے جائیں گے اور یہ ٹورنامنٹ تاریخ کا یادگار ترین ورلڈ کپ بن سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب، اسرائیل کی جانب سے لبنان پر مزید کوئی حملہ نہیں ہونا چاہیے، ڈونلڈ ٹرمپ

بنگلہ دیشی کسان کا جرمنی سے عشق، 7 کلومیٹر طویل پرچم لہرا دیا، وجہ انتہائی انوکھی!

کالعدم ایکشن کمیٹی احتجاج چھوڑ کر جانے والوں کو دھمکانے لگی، پولیس نے بڑا اعلان کردیا

کھیل میں بھی سیاست، ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ میں بھارتی کپتان نے پاکستانی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا

ڈراما سیریل’ڈاکٹر بہو‘ کیوں مشہور ہو رہا ہے؟، ہدایتکار مہرین جبار نے وجہ بتادی

ویڈیو

مشکل معاشی حالات میں حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

امریکا ایران ڈیل فائنل، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی چارٹر آف اکانومی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے لیے اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت

کالم / تجزیہ

سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے کیوں اہم ہیں؟

ہارڈ اسٹیٹ: گزارا کرنا سیکھیں