لندن میں ایلومینیم کی قیمتیں پیر کے روز گزشتہ ڈھائی ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی فریم ورک معاہدہ بتایا جا رہا ہے جس کے تحت دونوں ممالک نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 19 جون کو جنیوا میں ایران امریکا امن معاہدہ تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف
لندن میٹل ایکسچینج میں 3 ماہ کے کنٹریکٹ کے تحت ایلومینیم کی قیمت 3.0 فیصد کمی کے ساتھ 3,430 ڈالر فی میٹرک ٹن رہی جبکہ دن کے دوران یہ 3,408 ڈالر تک گر گئی، جو 30 مارچ کے بعد سب سے کم سطح ہے۔
امریکی اور ایرانی حکام کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور توانائی و تجارتی راستوں کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش ہے۔ اس پیشرفت کے بعد تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی تاہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی۔
یہ بحری راستہ، جہاں سے خلیجی ممالک کی بڑی مقدار میں دھاتیں اور خام مال عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے، فروری کے آخر سے بند یا محدود ہے۔ اس کے دوبارہ کھلنے سے خلیجی خطے سے ایلومینیم کی برآمدات میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے جو عالمی سپلائی کا تقریباً 9 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر، عالمی معیشت کے لیے مثبت پیشرفت ہے، وزیر خزانہ
تاہم شپنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس راستے پر مکمل اعتماد بحال ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، اور بحری نقل و حرکت صرف اسی صورت میں دوبارہ شروع ہوگی جب سیکیورٹی صورتحال مکمل طور پر یقینی ہو جائے گی۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق ایلومینیم کی قیمتوں میں یہ کمی تکنیکی عوامل کی وجہ سے بھی ہوئی ہے کیونکہ قیمتیں گزشتہ ہفتے 50 روزہ موونگ ایوریج سے نیچے آ گئیں، جو ایک اہم تکنیکی سطح سمجھی جاتی ہے۔
ادھر دیگر دھاتوں کی مارکیٹ میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ کاپر کی قیمت میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، زنک میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ٹن اور نکل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ بندی معاہدہ، ’پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ امن کا سفیر ہے‘
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں دھاتوں کی عالمی قیمتوں کا انحصار امریکا اور ایران کے مذاکرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی معاشی اعتماد پر ہوگا۔














