سعودی عرب میں نایاب ریم غزال کی جنگلی ماحول میں افزائشِ نسل دوبارہ شروع

منگل 16 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کے شمال مشرقی علاقے میں واقع امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو میں خطرات سے دوچار ریم غزال کی قدرتی ماحول میں افزائشِ نسل دوبارہ شروع ہوگئی ہے، جسے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی کامیابی کی ابتدائی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ریزرو انتظامیہ نے بتایا ہے کہ 2026 کے آغاز سے پہلی سہ ماہی کے اختتام تک عربی ریم غزال کے 40 سے زائد پیدائشی واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

ریزرو کے ترجمان نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریم غزال جزیرہ نمائے عرب کے صحرائی اور نیم صحرائی ماحولیاتی نظام کی نمایاں علامتوں میں سے ایک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حیاتیاتی تنوع کا فروغ، سعودی عرب میں 35 نایاب جانوروں کی واپسی

ماضی میں یہ غزال سعودی عرب اور خلیجی خطے کے وسیع صحرائی، ریگستانی اور کنکریلی میدانوں میں پائی جاتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران انسانی اور ماحولیاتی دباؤ کے باعث اس کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

خصوصاً گاڑیوں اور جدید اسلحے کے ذریعے بے دریغ شکار، رہائشی علاقوں کی توسیع، قدرتی مسکن کی تباہی اور چرائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے اس نسل کو شدید متاثر کیا۔

حکام کے مطابق 2026 میں ریکارڈ کیے گئے پیدائشی واقعات تحفظی سرگرمیوں کی کامیابی کا اہم اشاریہ ہیں، تاہم یہ اعدادوشمار لازمی طور پر نومولود بچوں کی درست تعداد کی عکاسی نہیں کرتے۔

’پیدائشی واقعات‘ سے مراد وہ مواقع ہیں جن میں کسی نئے بچے کی پیدائش کا مشاہدہ اور اندراج کیا گیا ہو۔

ترجمان نے کہا کہ قدرتی ماحول میں افزائشِ نسل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریم غزال اب صرف قیدی افزائشِ نسل یا انسانی نگہداشت پر انحصار نہیں کر رہی بلکہ جنگلی ماحول میں خود کو برقرار رکھنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے، جو ماحولیاتی استحکام کی اہم علامت ہے۔

مزید پڑھیں: نیوم نیچر ریزرو: سعودی عرب میں حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی بحالی کی نئی حکمتِ عملی

عام طور پر ایک مادہ غزال ایک بچے کو جنم دیتی ہے، تاہم بعض نایاب صورتوں میں جڑواں بچوں کی پیدائش بھی ممکن ہے، اس لیے پیدائشی واقعات اور نومولود بچوں کی تعداد میں فرق ہوسکتا ہے۔

حکام کے مطابق تربیت یافتہ ماہرین مسلسل فیلڈ مانیٹرنگ کے ذریعے ان واقعات کا ریکارڈ مرتب کرتے ہیں۔

دوہری گنتی سے بچنے کے لیے تصاویر، مشاہداتی ریکارڈ، جانوروں کی ظاہری خصوصیات، مقام اور تاریخ کا باریک بینی سے موازنہ کیا جاتا ہے۔

ہر واقعے کے ساتھ مقام، تاریخ، نومولود کی متوقع عمر اور دیگر نمایاں خصوصیات کا اندراج کیا جاتا ہے، جبکہ ماہرین کئی مرتبہ مادہ اور اس کے بچے کا مشاہدہ کرکے ان کی بقا اور خودمختاری کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔

بعض مادہ غزالوں کو نگرانی کے پروگرام کے تحت خصوصی کالر یا شناختی ٹیگ بھی پہنائے گئے ہیں، جس سے ماہرین کو نومولود بچوں کو ان کی ماؤں سے منسلک کرنے اور ان کی نقل و حرکت کا درست ریکارڈ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

حکام کے مطابق افزائشِ نسل میں حالیہ اضافہ کسی ایک فوری اقدام کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی برسوں پر محیط مربوط ماحولیاتی کوششوں کا ثمر ہے۔

جنگلی حیات کی دوبارہ آبادکاری، مرحلہ وار رہائی کے پروگرام، قدرتی مسکن کے تحفظ اور نگرانی کے بہتر نظام نے ریم غزال کے لیے نسبتاً محفوظ ماحول فراہم کیا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا ماحول دوست سیاحتی منصوبہ ’العُرومہ سیزن‘، 6 ماہ میں 8 لاکھ سے زائد سیاحوں کی آمد

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی شکار، انسانی مداخلت اور حد سے زیادہ چرائی اب بھی اس نسل کے لیے بڑے خطرات ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی اور قدرتی شکاری جانور بھی نومولود غزالوں کی بقا پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ریزرو انتظامیہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے گشت میں اضافہ، قوانین پر سختی سے عمل درآمد، قدرتی مسکن کی بحالی اور ریوڑوں کی مسلسل نگرانی جیسے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

حکام کے مطابق ریم غزال کی افزائشِ نسل میں یہ بہتری اس بات کا اشارہ ہے کہ حفاظتی حکمت عملی اب صرف اس نسل کے زوال کو روکنے تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک ایسی مستحکم جنگلی آبادی کی تشکیل کی جانب بڑھ رہی ہے جو طویل مدت میں خود کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp