ایران پر حملوں میں ایلون مسک کے اے آئی ٹول گروک کے استعمال کا امریکی اعتراف

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں میں ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت کے ٹول ’گروک‘ کو استعمال کیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ انکشاف 15 جون کو دائر کی گئی ایک قانونی درخواست میں سامنے آیا ہے۔

یہ درخواست ایکس اے آئی کے ایک بڑے ڈیٹا سینٹر میں استعمال ہونے والے گیس ٹربائنز کے دفاع میں جمع کرائی گئی، جنہیں ماحولیاتی مقدمے میں چیلنج کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹ کے چکمے: صارف ہتھوڑا لے کر جنگ کے لیے نکل پڑا، چشم کشا رپورٹ

امریکی محکمہ انصاف نے اپنے مؤقف میں کہا کہ یہ مقدمہ ’امریکی قومی، اقتصادی اور توانائی کے تحفظ کے لیے خطرہ‘ ہے۔

محکمے کے مطابق اس کے نتیجے میں مصنوعی ذہانت کی ان سرگرمیوں کی بجلی منقطع ہو سکتی ہے جو وزارتِ جنگ کی فوجی کارروائیوں میں معاونت فراہم کر رہی ہیں۔

اس مؤقف کے حق میں وفاقی پروسیکیوٹرز نے پینٹاگون کے اے آئی سربراہ کیمرون اسٹینلے کا حلفیہ بیان پیش کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ گروک کو پہلے ہی پروجیکٹ میون میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ امریکی فوج کا مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ ہدف بندی کا پروگرام ہے، جسے ابتدا میں ایتھروپک کے کلاڈ ماڈل سے چلایا جاتا تھا۔

اسٹینلے کے مطابق، پروجیکٹ کے میون اسمارٹ سسٹم نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران امریکی افواج کو صرف 96 گھنٹوں میں 2,000 مختلف اہداف پر 2,000 سے زائد ہتھیار استعمال کرنے کے قابل بنایا۔

انہوں نے اپنے بیان میں گروک کے سرکاری ماڈل کے ذریعے حاصل ہونے والی ’نمایاں عملی کارکردگی‘ کو بھی سراہا۔

مزید پڑھیں: جنگی نوعیت کی اے آئی ویڈیوز پر ایکس کی سخت پابندی، آمدنی شیئرنگ پروگرام معطل کرنے کا اعلان

دوسری جانب شہری حقوق کی تنظیم این اے اے سی پی نے ایکس اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

تنظیم کا مؤقف ہے کہ کمپنی درجنوں ٹربائنز بغیر اجازت ناموں کے چلا رہی ہے، جو کلین ایئر ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ ٹربائنز زیادہ تر سیاہ فام آبادی والے علاقوں میں آلودگی پھیلا رہی ہیں، جبکہ ایکس اے آئی کا مؤقف ہے کہ یہ ٹربائنز عارضی اور متحرک ہیں، اس لیے ان پر متعلقہ ضوابط لاگو نہیں ہوتے۔

فروری کے آخر میں امریکی حکومت نے اینتھروپک کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کر دیے تھے، کیونکہ کمپنی نے اپنے اے آئی ٹولز کو مکمل طور پر خودکار حملوں یا امریکی شہریوں کی وسیع پیمانے پر نگرانی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس کے بعد پینٹاگون نے گوگل، اوپن اے آئی اور ایکس اے آئی جیسی کمپنیوں کا رخ کیا تاکہ فوجی مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو آگے بڑھایا جا سکے۔

گوگل میں 600 سے زائد ملازمین نے مطالبہ کیا کہ کمپنی خفیہ فوجی آپریشنز کے لیے اے آئی فراہم نہ کرے، جبکہ دیگر حلقوں نے بھی مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مزید پڑھیں: کم عمر بچوں کی جعلی نازیبا تصاویر بنانے کا الزام، ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کیخلاف مقدمہ

امریکی فوج میں اے آئی کا مکمل انضمام ابھی وقت لے رہا ہے، اور مارچ میں حکومت نے تسلیم کیا تھا کہ ایران سے متعلق جنگی کارروائیوں میں کلاڈ ماڈل اب بھی استعمال ہو رہا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی ایلون مسک نے فروری میں ایکس اے آئی کو اپنی خلائی کمپنی اسپیس ایکس میں ضم کر دیا تھا، جس نے 12 جون کو تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او مکمل کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp