وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن، میرٹ اور اصلاحات کے باعث ٹیکس نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں اربوں روپے کی اضافی ریکوری ممکن ہوئی ہے اور نظام کو کرپشن و سفارش سے پاک کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مکمل طور پر جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد ٹیکس کلیکشن کے نظام کو شفاف، مؤثر اور خودکار بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر کا 11 ماہ کا خسارہ 868 ارب روپے تک پہنچ گیا
وزیر اطلاعات نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیزی سے مکمل کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے بلکہ بدعنوانی اور انسانی مداخلت کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق پہلے کسٹمز اور انکم ٹیکس کے شعبوں میں سفارش اور کرپشن کے مسائل موجود تھے، تاہم اب تمام تقرریاں مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ ٹیکس نہ دینے والے شعبوں سے وصولی یقینی بنائی جائے۔ ان کے مطابق اصلاحات کے بعد کسٹمز کلیئرنس اور دیگر امور مکمل طور پر خودکار نظام کے تحت انجام پا رہے ہیں، جہاں جی ڈی نمبر کے اندراج سے ہی پورا عمل ڈیجیٹل طریقے سے مکمل ہو جاتا ہے۔
Information Minister Attaullah Tarar says macroeconomic indicators have improved and Pakistan has been saved from default. He adds that the new budget is relief-oriented and highlights the introduction of the FBR faceless system.@TararAttaullah@MoIB_Official@BilalAKayani… pic.twitter.com/tBNhqhC5Ks
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) June 17, 2026
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلے جو کام ہفتوں میں ہوتا تھا اب وہ چند دنوں میں مکمل ہو رہا ہے، جس سے کاروباری طبقے کو سہولت ملی ہے۔
انہوں نے مختلف صنعتی شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شوگر، تمباکو، سیمنٹ اور بیوریجز جیسے بڑے سیکٹرز میں ٹیکس چوری اور کم رپورٹنگ کی شکایات تھیں، جنہیں اب جدید آئی ٹی سسٹمز کے ذریعے کنٹرول کیا گیا ہے۔ شوگر انڈسٹری میں کیمروں اور بارکوڈ سسٹم کے ذریعے پیداوار اور فروخت کو ٹریس کیا جا رہا ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق صرف شوگر سیکٹر سے 60 ارب روپے کی اضافی ریکوری ممکن ہوئی ہے جبکہ تمباکو انڈسٹری میں تقریباً 200 ارب روپے کی ممکنہ لیکیج کو روکا گیا ہے۔ دیگر شعبوں میں بھی اسی طرز کے اقدامات سے ریونیو میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر نے گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ سے متعلق وضاحت کردی
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ٹیکس تنازعات اور قانونی معاملات کے لیے بھی نئے ٹریبیونلز قائم کیے گئے ہیں، جس سے اربوں روپے کی ریکوری میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 800 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن میں بین الاقوامی اداروں اور ماہرین نے بھی تعاون کیا ہے، جبکہ بعض عالمی فاؤنڈیشنز اور ٹیکنالوجی ادارے اس عمل میں شریک رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس نظام واضح اور منصفانہ بنایا گیا ہے، جہاں 50 ہزار روپے ماہانہ تک آمدن رکھنے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں جبکہ اس سے زیادہ آمدن پر معمولی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
Information Minister Attaullah Tarar briefs the media on Budget 2026–27, with Minister of State for Finance Bilal Azhar Kayani also present.@TararAttaullah @MoIB_Official @BilalAKayani #Budget2026 #PakistanBudget #PressBriefing #AttaullahTarar #PakistanTV pic.twitter.com/tPLsj4im4U
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) June 17, 2026
انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات کسی ایک دور کی نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جس کا مقصد ملک میں ایک جدید، شفاف اور مؤثر ٹیکس نظام قائم کرنا ہے تاکہ معیشت کو مستحکم بنیادوں پر آگے بڑھایا جا سکے۔
اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے معیشت کو سہارا دینے اور مختلف شعبوں میں ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم ریلیف اقدامات کیے ہیں، جن سے ہاؤسنگ سیکٹر، برآمدات اور صنعتی پیداوار میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ اور دس مرلے کے گھروں اور پلاٹس کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے تاکہ عام شہریوں کو سہولت مل سکے اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرگرمی بڑھے۔ ان کے مطابق ہاؤسنگ سیکٹر کو ریلیف دینے سے تعمیراتی صنعت سے جڑی درجنوں ذیلی صنعتیں بھی فعال ہوں گی، جس سے مجموعی طور پر معیشت کو تقویت ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر کی ٹیکس قوانین کی خلاف ورزیوں پر کارروائی، وسطی پنجاب میں 2 شوگر ملیں سیل
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ “اپنا گھر پروگرام” کے تحت 90 ارب روپے کی رقم جاری کر دی گئی ہے، جس میں سے 11 ارب روپے براہ راست مستحق افراد تک پہنچ چکے ہیں۔ ان کے مطابق ہاؤسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھنے سے بجری، سریے، سیمنٹ اور فٹنگ سمیت تقریباً 12 بڑی صنعتیں متحرک ہوتی ہیں، جو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے برآمد کنندگان کے لیے بھی بڑے فیصلے کیے ہیں۔ ان کے مطابق ایکسپورٹرز پر عائد ایڈوانس ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ سپر ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
وزیر اطلاعات کے مطابق ان ریلیف اقدامات سے برآمد کنندگان اپنی پیداوار اور سرمایہ کاری بڑھا سکیں گے، جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف “میڈ ان پاکستان” مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی بنانا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایکسپورٹ ری فنانسنگ اسکیم پر شرح سود صرف 4 فیصد مقرر کی گئی ہے، جو مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ اس سے برآمدی صنعت کو سستی فنانسنگ میسر آئے گی اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر نے انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے آن لائن ریٹرنز جمع کرانے کے نئے قواعد متعارف کرا دیے
عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت کے یہ اقدامات ایک جامع معاشی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ہاؤسنگ، صنعت اور برآمدات تینوں شعبوں کو بیک وقت فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق اس پالیسی سے معیشت میں بہتری، سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ پوری معیشت کو متحرک کرنے کے لیے ہیں، اور آنے والے دنوں میں ان کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔














