ماں بننے کا سفر یا ذہنی جنگ؟ حمل کے دوران غذائی امراض کی پوشیدہ حقیقت

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حمل کو عموماً زندگی کے خوشگوار ترین مراحل میں شمار کیا جاتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق بعض خواتین کے لیے یہی عرصہ غذائی امراض یا بد نظمی (ایٹنگ ڈس آرڈرز) کے دوبارہ ابھرنے یا پہلی بار ظاہر ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ’مخصوص دنوں‘ میں خواتین درد کش دوا کا درست انتخاب کرتی ہیں؟

نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حمل بعض خواتین کے لیے ایک ایسا مرحلہ بن جاتا ہے جہاں جسمانی تبدیلیاں، وزن میں اضافہ اور ظاہری شکل میں فرق شدید ذہنی دباؤ پیدا کر سکتا ہے تاہم یہی وقت بعض افراد کے لیے مکمل صحت یابی کا موقع بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکا کی ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور غذائی امراض پر تحقیق کرنے والی الزبتھ کلیڈن کا کہنا ہے کہ جب وہ 27 سال کی عمر میں حاملہ ہوئیں تو ان کے لیے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرنا آسان نہیں تھا۔ وہ اس سے قبل نوعمری میں اینوریکسیا نرووسا کا شکار رہ چکی تھیں اور حمل کے دوران دوبارہ ان خیالات نے شدت اختیار کر لی۔ ان کے بقول بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ان کی حمل اور غذائی بیماری کے درمیان ایک مسلسل جنگ جاری ہو۔

ماہرین کے مطابق الزبتھ کا تجربہ غیر معمولی ضرور ہے لیکن نایاب نہیں۔ اندازوں کے مطابق ہر 20 میں سے ایک حاملہ خاتون حمل کے دوران کسی نہ کسی غذائی عارضے کا شکار ہوتی ہے۔ بعض خواتین میں پرانی بیماری دوبارہ لوٹ آتی ہے جبکہ کچھ میں پہلی بار علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

آسٹریلیا کی ایڈیلیڈ یونیورسٹی میں باڈی امیج اور غذائی امراض کی ماہر پروفیسر جیما شارپ کے مطابق حمل ایک ایسا مرحلہ ہو سکتا ہے جو غذائی امراض کے لیے ’کامل طوفان‘ ثابت ہو کیونکہ اس دوران جسم میں تیزی سے تبدیلیاں آتی ہیں اور بہت سی خواتین اپنے جسم پر کنٹرول کھونے کا احساس محسوس کرتی ہیں۔

مزید پڑھیے: اینڈومیٹریوسس: خواتین کی تکلیف دہ بیماری کی اب تشخیص جلد ممکن

تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 70 فیصد حاملہ یا نئی مائیں اپنے جسمانی خدوخال سے کسی نہ کسی حد تک عدم اطمینان کا اظہار کرتی ہیں جبکہ 5 سے 7.5 فیصد خواتین حمل کے دوران غذائی امراض کی باقاعدہ تشخیص کے معیار پر پورا اترتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سی خواتین شرمندگی یا سماجی دباؤ کے باعث اپنی علامات ظاہر نہیں کرتیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اینوریکسیا اور بلیمیا جیسے امراض نہ صرف ماں بلکہ بچے کی صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

غذائی کمی کے باعث ماں میں خون کی کمی، ہڈیوں اور عضلات کی کمزوری، شدید متلی اور دیگر پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں جبکہ اسقاط حمل، کم وزن بچے کی پیدائش اور قبل از وقت ولادت جیسے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حمل کے دوران غذائی مسائل بچے کی طویل المدتی صحت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ بعض مطالعات میں ان امراض کو بچوں میں توجہ کی کمی اور آٹزم کے زیادہ امکانات سے بھی جوڑا گیا ہے اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق درکار ہے۔

مزید پڑھیں: کاسمیٹیکوریکسیا: بچیاں اسکن کیئر کے جنون میں مبتلا، جلد اور ذہنی کیفیت دونوں داؤ پر

ماہرین کے مطابق خطرہ صرف حمل تک محدود نہیں رہتا۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 13 فیصد خواتین زچگی کے بعد بھی غذائی امراض کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس مرحلے پر ہارمونز میں اچانک تبدیلی، نیند کی کمی، بچے کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں اور جلد جسمانی شکل بحال کرنے کا سماجی دباؤ بیماری کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ یوگا انسٹرکٹر کورٹنی لوئیس کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران تو وہ اپنے غذائی مسائل پر قابو رکھنے میں کامیاب رہیں لیکن بچے کی پیدائش کے بعد حالات بہت مشکل ہو گئے۔ ان کے مطابق بعض اوقات وہ شدید غصے اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی تھیں اور خود کو ’مقید‘ محسوس کرتی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران غذائی امراض کی بروقت تشخیص ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ ان کی بہت سی علامات عام حمل کی علامات سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر شدید متلی اور قے بعض اوقات بلیمیا کی علامات کو چھپا دیتی ہیں جس کے باعث متعدد مریض تشخیص سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق غذائی امراض صرف حمل کے دوران ہی نہیں بلکہ خواتین کی زندگی کے مختلف حساس مراحل میں بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ تحقیقی اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 9 فیصد خواتین اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت غذائی عارضے کا شکار ہوتی ہیں۔ ماہرین تین ایسے مراحل کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں اس خطرے میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے جن میں بلوغت، حمل اور مینوپاز سے قبل کا دور (پیری مینوپاز) شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: چُپ کی عمر: دیہی خواتین اور سن یاس کے گرد پھیلی خاموشی

تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ سوشل میڈیا اور جسمانی خوبصورتی کے غیر حقیقی معیارات حاملہ خواتین پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ بعض خواتین حمل کے دوران وزن بڑھنے کے خوف اور جسمانی تبدیلیوں کے باعث شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہو جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق بعض حلقوں میں اس کیفیت کو غیر رسمی طور پر پریگوریکسیا بھی کہا جاتا ہے جس سے مراد حمل کے دوران وزن بڑھنے سے غیر معمولی خوف اور جسمانی ساخت برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد جلد از جلد پہلے جیسی جسمانی ساخت حاصل کرنے کی سماجی توقعات بھی نئی ماؤں پر اضافی دباؤ ڈالتی ہیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر نظر آنے والی مثالی تصاویر اور مشہور شخصیات کے تجربات بعض خواتین میں احساس ناکامی اور جسمانی عدم اطمینان کو بڑھا سکتے ہیں جس کے نتیجے میں غذائی مسائل مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

آسٹریلیا میں رہنے والی 33 سالہ خاتون، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، بتاتی ہیں کہ انہوں نے اپنے ڈاکٹروں کو پہلے ہی اپنی بیماری کی تاریخ سے آگاہ کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود انہیں کوئی اضافی مدد یا رہنمائی فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق انہیں پورا سفر تنہا طے کرنا پڑا۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حاملہ خواتین کو غیرجانبدار، ہمدردانہ اور باہمی تعاون پر مبنی طبی مدد فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق مناسب رہنمائی، نفسیاتی معاونت، غذائی مشاورت اور خاندانی تعاون کے ذریعے یہی مرحلہ صحت یابی کی مضبوط بنیاد بھی بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، تمام اسکولوں میں طالبات کو مفت سینیٹری پیڈ فراہم کرنے کا حکم

ماہرِ نفسیات لنڈا شانتی کے مطابق غذائی امراض کا شکار افراد عموماً تنہائی میں بیماری کا سامنا کرتے ہیں لیکن صحت یابی کبھی تنہا ممکن نہیں ہوتی۔ ان کے بقول ہر شخص غذائی بیماری کا شکار اکیلا ہوتا ہے مگر کوئی بھی شخص اکیلا صحت یاب نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق غذائی امراض اکثر متاثرہ افراد کو سماجی طور پر تنہا کر دیتے ہیں تاہم ان بیماریوں سے مکمل صحت یابی عموماً خاندان، دوستوں اور طبی ماہرین کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین علاج کے دوران مضبوط سماجی اور جذباتی تعاون کو انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیر قانونی بھرتیاں کیس: سپریم کورٹ نے پرویز الٰہی اور محمد خان بھٹی کو نوٹس جاری کر دیا

ٹرمپ نے ایران کے 300 ارب ڈالر فنڈ تک رسائی اچھے رویے سے مشروط کر دی

سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ، یکم جولائی 2026 سے اطلاق ہوگا

ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو ٹاور لگانے سے روکنے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ، قومی اسمبلی سے بل منظور

گھانا نے پنالٹی کے بغیر آخری لمحات میں پاناما کو شکست دے دی

ویڈیو

پاک سفارتکاری کی کامیابی، ایران امریکا امن معاہدے پر پشاور کے شہریوں کا خیرمقدم

اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی خصوصی ’رن فار فن ریس‘، خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت

وی ایکسکلوسیو: پاکستان کو معاشی چیلنج درپیش مگر حکومت کو دور دور تک کوئی خطرہ نہیں، انجینیئر خرم دستگیر

کالم / تجزیہ

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘

ویڈنگ ڈیٹیکٹیو یا خانگی جاسوسوں کے اچھوتے کام کا احوال

عین عشق کا المیہ