عوامی حقوق کے نعرے لگا کر مقبولیت حاصل کرنے والی کالعدم ایکشن کمیٹی کا حقیقی چہرہ اب کھل کر سامنے آ رہا ہے، اور کمیٹی کے کور ممبران کا بھارتی ایجنڈے پر کام کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
مطفرآباد سے ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کے کردار سے صاف واضح ہو رہا ہے کہ وہ کس کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مقصد آزاد کشمیر میں انتشار اور فسادات برپا کرکے نظریہ پاکستان اور کشمیریوں کے پاکستان کے ساتھ رشتے کو کمزور کرنا ہے۔
شوکت نواز میر ایک کٹھ پتلی ہیں جن کی ڈوریں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھ میں ہیں۔
جس دن آزاد کشمیر کے عوام نے ان سے حساب مانگا تو ان کی دکان بند ہو جائے گی۔ ان جیسے بے ضمیر عناصر کو بیرونی آقاؤں سے پیسہ ملتا ہے جس کے بعد یہ ایجنڈے کے مطابق کام کرتے ہیں۔
شوکت نواز میر کا ایک سادہ سی اسٹیشنری دکان سے لگژری گاڑیوں، اربوں روپے کی جائیدادوں اور شاہانہ طرزِ زندگی تک کا سفر بھی عوام کے سامنے شفاف احتساب کا تقاضا کرتا ہے۔
اس حوالے سے سینیٹر ڈاکٹر زرقہ سہروردی نے کالعدم ایکشن کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ چند مخصوص اوورسیز عناصر دولت اور مفادات کی خاطر اپنی ریاست اور عوام کے خلاف سرگرم ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیاکہ اس تحریک کے پیچھے بیرونی ایجنڈا اور بھارتی مفادات کارفرما ہیں، جن کا مقصد خطے میں انتشار پیدا کرنا ہے۔
ڈاکٹر زرقہ سہروردی نے واضح کیاکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی، جبکہ کشمیری عوام ایسے تمام عناصر اور ایجنڈوں کو ناکام بنائیں گے جو خطے کے امن، استحکام اور پاکستان کے ساتھ تاریخی رشتے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ شوکت میر نے لانگ مارچ شروع ہونے سے قبل اسے پُرامن قرار دیا تھا، تاہم ویڈیوز سے ظاہر ہورہا ہے کہ یہ لوگ پرامن نہیں ہیں۔












