گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجا شہباز خان نے تمام 24 انتخابی حلقوں کے حتمی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی 11 نشستیں جیت کر گلگت بلتستان اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 6 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے بدھ کو بتایا کہ دو زیرِ التوا انتخابی درخواستوں پر فیصلوں کے بعد تمام حلقوں کے نتائج مکمل کرلیے گئے ہیں۔ انتخابی عمل قانون کے مطابق مکمل کیا گیا اور مقررہ مدت میں نتائج جاری کیے گئے۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان حتمی سرکار انتخابی نتائج کا اعلان، پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت قرار، حکومت سازی کی راہ ہموار
انہوں نے بتایا کہ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ قریباً 70 فیصد رہا جبکہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں بھی جاری ہیں اور 27 ستمبر کو ایک ہزار 343 وارڈز میں پولنگ ہوگی۔
ابتدائی نتائج کے بعد سیاسی منظرنامہ تبدیل
ابتدائی غیر سرکاری نتائج آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کو واضح برتری حاصل تھی، تاہم بعض حلقوں کے نتائج روک لیے جانے کے بعد سیاسی صورتحال میں غیر یقینی پیدا ہوگئی تھی۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان صرف ایک نشست کا فرق رہ گیا ہے اور ان کے پاس بھی حکومت بنانے کا امکان موجود ہے۔
تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی نتائج کے اعلان کے بعد یہ دعویٰ دم توڑ گیا اور پیپلز پارٹی کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 11 جبکہ مسلم لیگ (ن) کی صرف 6 نشستیں رہ گئیں۔
4 آزاد امیدوار آئی پی پی میں شامل
انتخابی نتائج کے فوراً بعد کامیاب ہونے والے 4 آزاد امیدواروں نے حیران کن طور پر استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت اختیار کرلی، جس سے خطے کی سیاست میں نئی صف بندیاں شروع ہوگئی ہیں۔
واضح رہے کہ انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کا ایک بھی بھی امیدوار کامیاب نہیں ہوا تھا۔
آئی پی پی میں شامل ہونے والے آزاد امیدواروں میں جی بی اے 15 دیامر سے محمد دلپذیر، جی بی اے 21 غذر 3 سے امان علی، جی بی اے 23 گانچھے سے انور علی اور جی بی اے 24 گانچھے 3 سے اسد شفیق شامل ہیں۔
آزاد امیدواروں نے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان سے ملاقات کے دوران پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ محمد دلپذیر کا کہنا تھا کہ چاروں امیدواروں نے ایک گروپ کی صورت میں آئی پی پی میں شمولیت اختیار کی ہے اور وہ دیگر آزاد ارکان اور مجلس وحدت المسلمین کے منتخب نمائندوں سے بھی رابطے میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مزید ارکان کو بھی آئی پی پی میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی اور استحکام پاکستان پارٹی گلگت بلتستان اسمبلی میں ایک اہم سیاسی قوت کے طور پر ابھرے گی۔
حکومت سازی میں آئی پی پی کا کردار اہم
گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی 11 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے، تاہم اسے حکومت سازی کے لیے مزید حمایت درکار ہوگی۔ ایسے میں آئی پی پی میں شامل ہونے والے 4 آزاد ارکان کی سیاسی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔
سیاسی ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی مجلس وحدت المسلمین کے ایک اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 2 آزاد امیدواروں سے مخلوط حکومت کے قیام کے لیے رابطے کررہی ہے۔ دوسری جانب آئی پی پی کے ساتھ بھی مل کر حکومت بنانے کے لیے معاملات بھی زیر غور ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی پی نے حکومت میں اہم عہدوں کا مطالبہ کیا ہے، جن میں اسپیکر کا منصب اور وزیراعلیٰ کے بعض انتظامی اختیارات شامل ہیں، تاہم حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
ن لیگ اپوزیشن میں بیٹھنے کو تیار
مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی 11 اور ن لیگ کی 6 نشستیں ہیں، جبکہ 4 آزاد ارکان استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ میں آپ کو بڑی وضاحت سے اور معلومات کی بنیاد پر بتا رہا ہوں کہ ہماری پارٹی کے اندر پورا احترام موجود ہے کہ حکومت بنانے کا پہلا حق پیپلز پارٹی کا ہے، اگر پیپلز پارٹی حکومت بناتی ہے تو ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے اس بیان کے بعد یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ مسلم لیگ (ن) حکومت سازی کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے مضبوط امکان یہی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور دیگر اتحادی ارکان کی حمایت سے گلگت بلتستان میں نئی مخلوط حکومت تشکیل دے گی۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان حکومت سازی، وزیراعلیٰ کے لیے پیپلز پارٹی اراکین میں رسہ کشی، مضبوط امیدوار کون؟
تاہم اسپیکر، وزیراعلیٰ اور کابینہ میں شراکت کے معاملات آئندہ چند روز میں ہونے والے مذاکرات کے بعد حتمی شکل اختیار کریں گے۔














