ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو ٹاور لگانے سے روکنے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ، قومی اسمبلی سے بل منظور

جمعرات 18 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لائسنس یافتہ موبائل فون اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں نجی و سرکاری املاک پر ٹاور نصب اور آپٹیکل فائبر بچھا سکیں گی، جبکہ رکاوٹ ڈالنے والوں پر بھاری جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔

قومی اسمبلی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل منظور کرلیا ہے، جسے مزید منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

ترمیمی بل کے مطابق نجی جائیدادوں کے مالکان اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر کے قیام کے لیے جگہ فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ موبائل فون یا ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو آپٹیکل فائبر بچھانے یا ٹاور نصب کرنے کے لیے جگہ فراہم نہ کرنے والے نجی گھر کے مالک، کرائے دار یا عوامی و نجی ادارے پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 5 جی کی تیاری: جاز اور زونگ نے سینکڑوں ہم آہنگ موبائل فونز کی فہرست جاری کردی

بل کے تحت ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کی توسیع اور جدید مواصلاتی سہولیات کی فراہمی کے لیے کمپنیوں کو انفرااسٹرکچر قائم کرنے میں آسانی فراہم کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر الیکشن کمیشن نے ’عوام پاکستان‘ کو ڈی لسٹ کردیا

اسمارٹ چشموں سے خفیہ ریکارڈنگ: لوگ ویڈیو رکوانے کے لیے ڈزنی کے گانے کیوں گانے لگے؟

مون سون بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد 151 ہوگئی، 8 اگست سے نئے سلسلے کی پیشگوئی، الرٹ جاری

ایک دھن 639 سال، دنیا کا منفرد ترین موسیقی پروگرام جاری

‘بھوتوں کی مہک پہچان لیتا ہوں’، پیرانارمل انویسٹیگیٹر کے حیران کن دعوے

ویڈیو

’۔۔۔ ایک دستخط‘: تجارتی خسارے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزر لینڈ کو دھمکی دے دی

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

 ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟