امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کو تباہ کردیا جائے یا اسے دوبارہ پنپنے کا موقع دیا جائے، تاہم انہیں یقین ہے کہ مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہوجائے گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت کبھی نہیں دی جائے گی، ایرانی حکومت نے مذاکرات کے مواقع مسترد کرکے بڑی غلطی کی۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا جنرل اسمبلی میں بھی پاک بھارت جنگ کا ذکر، شہباز شریف کو عظیم لیڈر قرار دیدیا
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کا میزائل اور ڈرون ذخیرہ خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ تھا اور ایران یورپ تک مار کرنے والا میزائل بھی تیار کرچکا تھا۔
ٹرمپ نے کہاکہ آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے دوران ایران کی بحریہ مکمل طور پر تباہ کردی گئی، جبکہ ایرانی فضائیہ، ریڈار اور طیارہ شکن نظام بھی ختم ہوچکے ہیں۔ ان کے بقول ایران کی میزائل اور ڈرون بنانے کی صلاحیت تقریباً ختم کردی گئی ہے۔
امریکی صدر نے کہاکہ ایران کی معیشت تباہ ہوچکی ہے اور وہاں افراط زر کی شرح 300 فیصد سے تجاوز کرگئی ہے۔
انہوں نے ایرانی حکومت پر رواں سال 72 ہزار سے زائد شہریوں کو قتل کرنے کا الزام بھی عائد کیا، جبکہ کہا کہ ایران میں حالیہ احتجاج کے دوران 10 ہزار افراد مارے گئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ایرانی حکومت مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے سے دہشت، موت اور انتشار پھیلاتی رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے مذاکرات کے مواقع مسترد کیے، جس کے بعد آپریشن ’مڈنائٹ ہیمر‘ کیا گیا۔
’غزہ کی تعمیر نو کے لیے 30 ممالک بورڈ میں شامل ہوچکے‘
امریکی صدر نے غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے حوالے سے کہا کہ تقریباً 30 ممالک اس مقصد کے لیے قائم بورڈ میں شامل ہوچکے ہیں اور وہ خود اس بورڈ کے چیئرمین ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق قطر، کویت، قازقستان، ترکیہ اور دیگر ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر فراہم کیے ہیں۔ یہ عطیات براہِ راست غزہ کی تعمیر نو اور متاثرین کی بحالی پر خرچ کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا، مراکش، البانیہ، کوسوو اور دیگر ممالک نے غزہ کے لیے اہلکار بھیجے، جبکہ مصر، اردن اور دوسرے ممالک نے علاقے کو مستحکم کرنے کے لیے تعاون کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ غزہ جنگ کے تصفیے میں تمام یرغمالیوں کی واپسی بھی شامل ہے۔
ٹرمپ کا 8 جنگیں ختم کرانے کا دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے 8 جنگیں ختم کرائیں، جن میں سے کئی تنازعات برسوں اور بعض دہائیوں سے جاری تھے۔ ان کے مطابق ذاتی تعلقات اور تجارتی دباؤ نے جنگ بندی کے حصول میں کردار ادا کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جنگ کا تصفیہ کرایا گیا، جبکہ کوسوو اور سربیا کے درمیان تنازع بھی حل کیا گیا۔ ان کے مطابق کانگو اور روانڈا کے درمیان جنگ بندی میں بھی انہوں نے کردار ادا کیا۔
ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان تنازع بھی حل کرایا گیا۔
’پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بہترین شخص ہیں‘
امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم ایک بہترین شخص ہیں۔ انہوں نے کروڑوں جانیں بچانے کا کریڈٹ مجھے دیا۔
امریکا میں ریکارڈ سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کا دعویٰ
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہاکہ امریکا میں دنیا بھر سے ریکارڈ سرمایہ کاری ہورہی ہے اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران امریکی اسٹاک مارکیٹ نے 80 تاریخی ریکارڈ قائم کیے۔
ان کے مطابق دنیا بھر سے امریکا میں 21 ٹریلین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کے وعدے ملے ہیں۔ 2 سال قبل امریکا مردہ معیشت تھا، لیکن اب دنیا کا گرم ترین ملک بن چکا ہے۔
امریکی صدر نے کہاکہ امریکا کی سرحد تاریخ کی محفوظ ترین سرحد ہے اور گزشتہ 16 ماہ کے دوران کوئی غیر قانونی تارکِ وطن امریکا میں داخل نہیں ہوا۔ ان کے بقول گزشتہ سال ملک میں پرتشدد جرائم میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی ہوئی، جبکہ قتل کی شرح 125 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
امریکی فوج پر 1.5 ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کا اعلان
امریکی صدر نے کہاکہ امریکا نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران فوج پر ریکارڈ رقم خرچ کی، جبکہ موجودہ مدت میں فوجی اخراجات 1.5 ٹریلین ڈالر ہوں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ انہیں ایک تاریک دور ورثے میں ملا تھا، لیکن امریکا اب سنہری دور میں داخل ہوچکا ہے۔ ان کے مطابق امریکی دولت، طاقت اور توانائی سے پوری دنیا فائدہ اٹھارہی ہے۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس: مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات سر فہرست
انہوں نے کہا کہ امریکا نے عالمی مسائل حل کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے ہیں۔













