بھارت کے ایک سادھو دولال گری جی مہاراج سوشل میڈیا پر اس وقت توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وہ ہندو دیوتا شیو کی عقیدت میں گزشتہ 12 سال سے مسلسل کھڑے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جون 2026 میں ان کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں، جن میں انہیں برہنہ دھڑ، لمبی جٹاؤں اور زعفرانی لباس میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیوز میں سادھو کو ایک لکڑی کے تختے کے سہارے کھڑا دکھایا گیا ہے، جبکہ مندر کے رضاکار ان کی سوجی ہوئی ٹانگوں پر مرہم لگا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مہا کمبھ: انڈیا میں ہر 144 سال بعد ہونے والے میلے میں کیا کچھ ہوتا ہے؟
ان کی ٹانگوں کی غیر معمولی حالت نے انٹرنیٹ صارفین کو حیران اور پریشان کردیا۔ تصاویر میں ان کی ٹانگیں پاؤں سے رانوں تک شدید سوجن اور رنگت کی تبدیلی کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔
In India, a man has been standing in one place for five years as a vow to the god Shiva
He does not sit or stretch his legs and sleeps while supported by a special harness.
His legs have become severely swollen and darkened due to poor blood circulation, and temple volunteers… pic.twitter.com/fc0rIttXJ1
— NEXTA (@nexta_tv) June 14, 2026
کئی سوشل میڈیا صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ طویل عرصے تک مسلسل کھڑے رہنے کی وجہ سے ان کی صحت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بعض افراد نے سادھو کی ٹانگوں کی حالت کے بارے میں لمفیڈیما یا گینگرین جیسے طبی مسائل کا خدشہ بھی ظاہر کیا، تاہم اس کی کسی مستند طبی رپورٹ سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرشن چندر کا افسانہ اور ہجوم کی نفسیات
ہندو مذہبی روایات میں ایسی سخت ریاضت کو کھڑا تپسیا کہا جاتا ہے، جس میں سادھو طویل مدت تک کھڑے ہو کر عبادت اور مراقبہ کرتے ہیں۔ ہندو، بدھ اور جین روایات میں تپسیا کو خود نظم و ضبط، قربانی اور روحانی ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک مسلسل کھڑے رہنے سے ٹانگوں میں سوجن، پٹھوں کی تھکاوٹ، درد، خون کی گردش کے مسائل اور دیگر جسمانی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔














