وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا متوقع دورۂ سوئٹزرلینڈ مؤخر کر دیا ہے کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدہ، جسے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کہا جا رہا ہے، الیکٹرانک طور پر دستخط ہونے کے بعد نافذ العمل ہو چکا ہے، جس کے باعث باضابطہ دستخطی تقریب کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
’عرب نیوز‘ کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم آفس نے اعلان کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ثالث کے طور پر معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان اس دستاویز پر پہلے ہی الیکٹرانک دستخط کر چکے تھے۔
معاہدے کے اہم مقاصد
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور تنازع کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی لانا اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر متنازع امور کے حل کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز کرنا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں تقریب کی تیاری مکمل تھی
پاکستانی حکام کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام بورگن اسٹاک روانہ ہونے والے تھے، جہاں معاہدے سے متعلق ایک رسمی تقریب متوقع تھی۔
وفد میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی شامل تھے۔
الیکٹرانک دستخطوں کے بعد صورتحال تبدیل
تاہم ایرانی حکام کی جانب سے یہ اشارہ ملنے کے بعد کہ معاہدہ پہلے ہی الیکٹرانک طور پر مکمل ہو چکا ہے، اس لیے علیحدہ دستخطی تقریب ضروری نہیں رہی، پاکستانی حکام نے وزیراعظم کے دورے پر نظرثانی شروع کر دی۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایک رسمی تقریب کے امکان پر اب بھی غور جاری ہے، تاہم پاکستان ٹی وی کے مطابق وزیراعظم کا دورہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔
پاکستان ٹی وی کا بیان
پاکستان ٹی وی نے سوئٹزرلینڈ سے براہِ راست نشریات کے دوران کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا دورۂ سوئٹزرلینڈ مؤخر کر دیا ہے کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں اور اس پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات معاہدے کے فریم ورک کے تحت الگ سے جاری رہیں گے‘۔
پاکستانی وفود اور صحافی پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے تھے، دورے کے مؤخر ہونے سے قبل پاکستانی سفارت کاروں، سرکاری ٹی وی کی ٹیموں اور متعدد صحافیوں کی ایک بڑی تعداد تقریب کی کوریج کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ چکی تھی۔
تنازع کے خاتمے میں پاکستان کا اہم کردار
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فروری میں شروع ہونے والا علاقائی تنازع ہزاروں جانوں کے ضیاع، عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور غذائی تحفظ سے متعلق خدشات کا باعث بنا تھا۔
پاکستان نے پورے بحران کے دوران ایک فعال ثالثی کردار ادا کیا۔ اپریل میں اسلام آباد نے امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کی اور بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور سفارتی رابطوں میں سہولت فراہم کی۔
عالمی اور سفارتی حلقوں میں اس وقت پاکستان کے کلیدی کردار کو انتہائی قدر، احترام اور اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
اسے بلاشبہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کی سب سے بڑی اور تاریخی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ دُنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی ملک نے اتنی مؤثر، خاموش اور اسٹرٹیجک سفارت کاری کے ذریعے عالمی برادری کو ایک ہولناک ایٹمی تباہی کے دہانے سے واپس موڑا ہے۔
پاکستان کی سفارتکاری کا حیران کن پہلو
اس کامیابی کا سب سے منفرد اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے روایتی طریقوں سے ہٹ کر، دونوں حریف ممالک کو آمنے سامنے بٹھائے بغیر کامیاب سفارتکاری کے ذریعے پردے کے پیچھے رہ کر اتنی بڑی اور پیچیدہ سفارتی ڈیل کو منطقی انجام تک پہنچایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دُنیا پاکستان کے پرامن کردار کو نہ صرف سرہاتی ہے بلکہ اس پر مکمل بھروسا بھی کرتی ہے۔
دُنیا بھر میں قیامِ امن اور تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو اب عالمی سطح پر ایک ‘کامیاب اور معتبر سفارتکار’ کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں سمیت دنیا کے صفِ اول کے ممالک کے وزرائے خارجہ اور سربراہانِ مملکت نہ صرف پاکستان کے اس قائدانہ کردار کی ستائش کر رہے ہیں بلکہ اس تاریخی سفارتی معرکے پر پاکستان کو مبارکباد کے پیغامات بھی بھیج رہے ہیں۔
دُنیا پاکستان پر مکمل بھروسا کرتی ہے
اس سفارتی پیش رفت کی حساسیت، اہمیت اور پاکستان پر بھروسے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورۂ سوئٹزرلینڈ کو مؤخر کر دیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ امن عمل انتہائی نازک اور تیز رفتار مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
اب اس تاریخی کامیابی کے بعد، معاہدے کے عملی نفاذ اور تکنیکی نوعیت کے اہم مذاکرات کا اگلا دور ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے طے شدہ فریم ورک کے تحت جاری رہے گا، جس کا مرکز اب اسلام آباد بن چکا ہے۔ یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر امن کا ایک پائیدار ستون اور متبادل سفارت کاری کا ایک ناگزیر مرکز بن کر ابھرا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا اہل ہے بلکہ عالمی امن و استحکام کے قیام میں بھی ایک مؤثر، ذمہ دار اور قابلِ اعتماد کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔














