وزیر دفاع خواجہ آصف نے خواجہ آصف نے عبوری بنیادوں پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کی براہ راست نمائندگی دینے کی بلاول بھٹو کی تجویز کی حمایت کردی ہے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں پاکستان کی تاریخ، کشمیری مہاجرین کی قربانیوں، سینیٹ کے انتخابی نظام اور ملک کی آئینی و سیاسی صورتحال پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے اپنے خاندانی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے آباؤاجداد بھی ‘150’ سال پہلے کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے، اس لیے وہ ان معاملات کی حساسیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں ریاست مخالف ایجنڈا نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی، خواجہ آصف نے ایکشن کمیٹی پر واضح کردیا
انہوں نے اسمبلی کے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ کشمیریوں نے تحریکِ آزادی کو اپنے خون سے لکھا ہے اور انگریز مصنفین کی کتابوں میں بھی ‘224,000’ کشمیری شہدا کا ذکر موجود ہے، لہٰذا ان کے حقوق اور ووٹ بینک کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہیے۔
خواجہ آصف نے پاکستان کی تخلیق کے لیے مشرقی پنجاب سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کی لازوال قربانیوں کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا اپنا خاندان ہجرت کر کے آیا تھا، پٹھان کوٹ، گورداسپور، ہوشیار پور، جالندھر، امرتسر اور انبالہ جیسے مشرقی پنجاب کے اضلاع سے آنے والے مہاجرین نے، جو اب اوکاڑہ، فیصل آباد اور لاہور سمیت مختلف شہروں میں آباد ہیں، ملک کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کی 12 نشستیں ایک جذباتی نوعیت کا مسئلہ ہے کیونکہ مہاجرین کی ایک بہت بڑی تعداد خود آزاد کشمیر میں بھی آباد ہے، سمجھتا ہوں مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کا حق کبھی ختم نہیں ہونا چاہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2025 کا انٹرویو اچانک وائرل، وزیر دفاع خواجہ آصف کے انٹرویو کو بھارتی میڈیا سیاق سباق سے ہٹ کر پیش کرنے لگا
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل اور وہاں انتخابی نظام میں تبدیلیوں کے حوالے سے انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مؤقف سے اتفاق کیا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ‘1947’ سے لے کر ‘2027’ تک پرانا نظام اسی طرح نہیں چل سکتا اور اب وقت آ گیا ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے آئینی نظام میں جدت لائی جائے تاکہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ یہ پاکستان کا مستقل حصہ ہیں۔
انہوں نے بلاول بھٹو کے اس بیان کی بھی تائید کی جس میں عبوری بنیادوں پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے سینیٹرز اور ارکانِ قومی اسمبلی کو براہِ راست نمائندگی دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
سینیٹ کے موجودہ ڈھانچے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ وہ ‘1991’ میں خود سینیٹر منتخب ہوئے تھے اور ان کے والد بھی سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف رہ چکے ہیں، لیکن وہ سینیٹ کے موجودہ بالواسطہ انتخابی نظام سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سینیٹ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت کئی ایسے اختیارات حاصل کر لیے ہیں جو صرف براہِ راست منتخب ارکان کا حق ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
انہوں نے تجویز دی کہ اگر سینیٹ کا وجود برقرار رکھنا ہے تو سینیٹرز کا انتخاب براہِ راست ‘ون مین ون ووٹ’ کی بنیاد پر عوامی ووٹوں سے ہونا چاہیے تاکہ امریکی سینیٹ کی طرح ان کی آئینی حیثیت مستند ہو، ورنہ سینیٹ کو ختم کر کے قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کر دیا جائے۔
انٹرویو کے آخری حصے میں ملکی سلامتی اور ماضی کی پالیسیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے پارلیمنٹ میں ایسے لوگ بھی موجود رہے ہیں جن کا تعلق مبینہ طور پر افغان شہریت سے تھا اور وہ حامد کرزئی اور احمد شاہ مسعود جیسے افغان رہنماؤں کے ساتھی رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے گہرے دکھ کے ساتھ کہا کہ ماضی کی غلط حکمتِ عملیوں کی وجہ سے اجنبی لوگ ہماری پارلیمنٹ تک پہنچ گئے اور آج افغانستان کا مسئلہ ہمارے گلے کا ڈھول بن چکا ہے جسے ہم بجانے پر مجبور ہیں۔














