وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں اگر کچھ عناصر قانون سے ماورا ہو کر ریاست مخالف ایجنڈا نافذ کرنے کی کوشش کریں اور مسلح جتھوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہیں تو ریاست اپنی پوری قوت کے ساتھ قانون کا نفاذ کرے گی۔
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں انتخابات قریب ہیں اور ایسے میں اختلافی مسائل کو عوام کی عدالت میں لے جانا ہی حقیقی جمہوری طرزِ عمل ہے، تاہم جو عناصر عوامی رائے کے بجائے قتل و غارت اور تشدد کے ذریعے اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتے ہیں، ان کے مقاصد کچھ اور دکھائی دیتے ہیں۔
اسوقت جب انتخابات قریب ھیں اختلافی مسائل کو عوام کی عدالت میں لے جانا عین جمہوری سوچ ھے۔ جو لوگ عوامی راۓ کی بجائے قتل و غارت کے ذریعے اپنی رائے و سوچ مسلط کرنا چاہتے ھیں انکے مقاصد کچھ اور ھیں ۔ جسطرح پولیس اور سیکورٹی کے عملے کو شہید کیا گیا اور لاشوں کی بے حرمتی کی گئی۔ اس سے…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) June 9, 2026
خواجہ آصف نے کہاکہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو جس طرح شہید کیا گیا اور بعد ازاں لاشوں کی بے حرمتی کی گئی، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے عناصر عوامی رائے اور انتخابی عمل کا راستہ اختیار کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جمہوری معاشروں میں اختلافات کا فیصلہ عوام کی عدالت میں ہوتا ہے اور انتخابات ہی وہ آئینی اور قانونی راستہ ہیں جن کے ذریعے عوام اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن اگر کوئی گروہ تشدد، مسلح جتھوں اور طاقت کے زور پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرے تو اس کے عزائم کو محض سیاسی اختلاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیاکہ کشمیری عوام کو اپنی رائے کے آزادانہ اظہار کا مکمل موقع فراہم کیا جائے گا اور انہیں انتخابی عمل کے ذریعے اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق حاصل رہے گا۔
وزیر دفاع نے کہاکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے، امن و امان برقرار رکھے اور کسی بھی غیر آئینی یا پرتشدد اقدام کو قانون کے مطابق روکے، تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنی جمہوری رائے کا استعمال کر سکیں۔
واضح رہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے آزاد کشمیر بھر میں مطالبات کے حق میں احتجاج کیا جارہا ہے، اور قافلے مظفرآباد کی جانب بڑھ رہے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انہیں روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔













