اوباما صدارتی مرکز کا افتتاح، کلنٹن، بش اور بائیڈن سمیت سابق امریکی صدور کی شرکت

جمعہ 19 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

شکاگو میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے صدارتی مرکز اور لائبریری کی افتتاحی تقریب میں ملک کے تین سابق صدور سمیت اہم عالمی شخصیات نے شرکت کی، تاہم موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔

امریکا کے شہر شکاگو میں سابق صدر براک اوباما کے صدارتی مرکز کے افتتاح کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں سابق صدور بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش اور جو بائیڈن نے شرکت کی۔

تقریب میں براک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما بھی موجود تھے۔ یہ تقریب جمعرات 18 جون 2026 کو شکاگو کے جیکسن پارک میں منعقد ہوئی، جبکہ مرکز کو عوام کے لیے 19 جون سے کھولا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:باراک اوباما بحیثیت صدر ایک دن میں عام لوگوں کی طرف سے بھیجے گئے کتنے خطوط پڑھتے تھے؟

اوباما صدارتی مرکز تقریباً 19 ایکڑ رقبے پر قائم ایک وسیع شہری منصوبہ ہے، جس پر 850 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔ یہ منصوبہ نجی عطیات کے ذریعے اوباما فاؤنڈیشن کے تحت مکمل کیا گیا ہے اور امریکی نیشنل آرکائیوز کے نظام سے الگ آزاد حیثیت میں کام کرے گا۔

مرکز کے لیے شکاگو کا انتخاب اوباما خاندان کے اس علاقے سے دیرینہ تعلق کی وجہ سے کیا گیا، جہاں انہوں نے سیاسی سفر کے آغاز سے پہلے اور بعد میں زندگی کا اہم حصہ گزارا۔

افتتاحی تقریب میں اوباما نے اپنی گفتگو میں امید، ہمدردی اور عوامی شمولیت کے ذریعے مثبت تبدیلی کے موضوعات کو اجاگر کیا۔

تقریب میں موسیقی کی دنیا سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں بروس اسپرنگسٹین، جینیفر ہڈسن اور دی روٹس شامل تھے۔ اس کے علاوہ سابق جرمن چانسلر اینجلا مرکل اور سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سمیت عالمی رہنما بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی: ڈونلڈ ٹرمپ خود ہی اپنے فیصلوں کو سراہنے لگے، اوباما اور بائیڈن کے ادوار سے موازنہ

اوباما صدارتی مرکز کی تعمیر اور منصوبہ بندی کا سفر تقریباً ایک دہائی پر محیط رہا۔ یہ صرف ایک لائبریری نہیں بلکہ ایک کمیونٹی مرکز کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جہاں میوزیم، شکاگو پبلک لائبریری کی شاخ اور کھیلوں کی سہولیات بھی شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے ایلچی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ، سیز فائر کے باوجود لبنانی علاقوں پر اسرائیلی حملے جاری

پاک فوج میں بغاوت کی بات کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے، کشمیری قیادت کا مطالبہ

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر ازبکستان کی پاکستان کو مبارکباد، سفارتی کردار اور امن کوششوں کو سراہا

پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی اہم بیٹھک، اسحاق ڈار قاہرہ روانہ

امریکا اور قطر کا ایران کے منجمد اربوں ڈالر جاری کرنے پر غور، 6 ارب ڈالر کی ابتدائی رقم تک رسائی کا امکان

ویڈیو

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بڑی کمی، اسلام آباد کے شہریوں میں خوشی کی لہر

شہباز شریف کا وعدہ پورا، پیٹرول کی قیمت میں 74روپے کمی، امریکی نائب صدر نے اسرائیل کو کھری کھری سنادیں، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کو خراج تحسین

فیلڈ مارشل اور وزیراعظم نے دنیا کو بڑی تباہی سے بچا لیا، جنگ ختم نہ ہونے پر پیٹرول کی قیمت 10ہزار روپے ہوتی؟

کالم / تجزیہ

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟

’آپ پاکستان سے آئے ہیں؟‘