امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے انکشاف کیا ہے کہ اپنی صدارت کے دوران وہ روزانہ عام امریکی شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والے کم از کم 10 خطوط خود پڑھتے تھے۔
ان خطوط میں شہری اپنے مسائل، ذاتی تجربات اور زندگی سے جڑی کہانیاں شیئر کرتے تھے جو ان کے لیے نہایت جذباتی اور معنی خیز حیثیت رکھتی تھیں۔
As President, I would read 10 letters a day sent to me by ordinary Americans. At the Obama Presidential Center, we’ll have some of the letters I read — and responded to — every night. I still get emotional reading them, and it’s one of my favorite exhibits. pic.twitter.com/8aoxn9CNtT
— Barack Obama (@BarackObama) June 1, 2026
انہوں نے بتایا کہ اوباما صدارتی مرکز میں ان خطوط کے منتخب حصے مستقل نمائش کے طور پر رکھے جائیں گے جنہیں انہوں نے اپنی صدارت کے دوران خود پڑھا اور ان کا جواب بھی دیا تھا۔
سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی یہ خطوط دوبارہ پڑھ کر جذباتی ہو جاتے ہیں، اور یہ نمائش ان کے لیے مرکز کی سب سے پسندیدہ پیشکشوں میں سے ایک ہے۔














