سعودی عرب کے وزیر سیاحت احمد الخطيب نے کہا ہے کہ رمضان اور حج کے مضبوط سیزن نے ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی کے اثرات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ گزشتہ چند ماہ چیلنجنگ رہے، تاہم مذہبی اور ملکی سیاحت کی مضبوط کارکردگی کے باعث مجموعی شعبہ مستحکم رہا۔
Stronger-than-expected results from #Ramadan and #Hajj visitors helped ease the impact of the disruption caused by #IranWar, @SaudiTourism Minister @AhmedAlKhateeb said on Thursday at the #FII Priority Europe summit in Rome. https://t.co/AlUU97qxxU pic.twitter.com/riTTnlbVpx
— Arab News (@arabnews) June 18, 2026
روم میں منعقدہ ’ایف آئی آئی پریارٹی یورپ‘ سمٹ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں رمضان اور حج کے دوران زائرین کی بڑی تعداد نے سیاحتی شعبے کو سہارا دیا، جس سے مجموعی کارکردگی گزشتہ سال کے مقابلے میں صرف 5 سے 6 فیصد کم رہی۔
وزیر سیاحت کے مطابق سعودی عرب میں ملکی سیاحت کا حصہ 60 سے 65 فیصد تک ہے، اور عید و رمضان کی تعطیلات کے دوران زیادہ تر شہری ملک کے اندر ہی مختلف مقامات کا رخ کرتے ہیں، جس سے اندرونی سیاحت کو نمایاں فروغ ملا۔

انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کے دوران اگرچہ فضائی آپریشن متاثر ہوئے، تاہم ایئرلائنز نے تیزی سے بحالی دکھائی اور صورتحال جلد معمول پر آ گئی۔
احمد الخطيب نے کہا کہ سعودی عرب نے گزشتہ 5 برسوں میں سیاحتی شعبے میں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کی ہیں، اور وژن 2030 کے دوسرے مرحلے میں اس شعبے کو مزید وسعت دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:محمد بن سلمان کا جدید، متنوع، اور عالمی امن و استحکام کے لیے کوشاں سعودی عرب کس طرح سے تبدیل ہو رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ نئی سیاحتی منزلیں جیسے ریڈ سی پروجیکٹ اور درعیہ ترقیاتی منصوبہ آئندہ برسوں میں اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ ریاض ایئر کا آغاز بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
سعودی وزیر نے کہا کہ اگرچہ دنیا میں ڈیجیٹلائزیشن تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن سیاحت بنیادی طور پر انسانی رابطے اور تجربے پر مبنی شعبہ ہے، جس میں انسان کا کردار ہمیشہ مرکزی رہے گا۔














