سعودی عرب پاکستان کا ایک انتہائی قریبی دوست ملک اور پاکستان کے لئے ہر مشکل کی گھڑی میں ہمیشہ مددگار رہتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کے لیے سعودی عرب نے بہت بڑا کردار ادا کیا جس کا اعتراف پاکستان کے وزیراعظم اور دیگر ممالک نے بھی کیا۔
سعودی عرب کی زمامِ کار جب سے ولی عہد محمد بن سلمان نے سنبھالی ہے سعودی عرب ایک مختلف ملک بنتا جا رہا ہے۔ وہ پورے ملک کی ڈیجیٹلائزیشن ہو یا معیشت کو صرف تیل کے انحصار سے الگ کرکے دوسرے شعبوں تک پھیلانا اور ترقی دینا، محمد بن سلمان سعودی عرب کو عالمی طور پر ایک فعال سفارتی اور معاشی ملک بنانے کے لیے کوشاں ہیں جس کا فائدہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اُٹھا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب کی ایران امریکا امن معاہدے میں پاکستان اور قطر کے کردار کی ستائش
سعودی عرب کے نئے خدوخال
موجودہ سعودی عرب اپنے نئے امیج کے ذریعے اور نئے اُٹھائے گئے اقدامات کے ذریعے سے ایک ایسا مقام بن کر اُبھر رہا ہے جو نہ صرف عالمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا مقام بنتا ہے، بلکہ ڈیووس طرز کے فیوچر انویسٹمنٹ فورمز کے ذریعے عالمی مالیاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بھی بن رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی معیشت کے لیے سیاحت کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجیز کے لئے بھی کام کر رہا ہے۔
سعودی گزٹ کی ایک خبر کی مطابق اس وقت کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سعودی معیشت کا 15.6 فیصد حصہ ہے، سال 2023 میں سعودی عرب کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکسپورٹس کا حجم 76.1 فیصد بڑھ گیا تھا اور اُس کا مجموعی حجم 11.8 ارب ڈالر تھا۔ یہ چیز ظاہر کرتی ہے کہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت کس طرح سے سعودی عرب اپنی معیشت کو تیل پر منحصر معیشت سے دوسروں شعبوں کی طرف منتقل کر رہا ہے۔
اسی طرح سے سعودی معیشت میں سیاحت اب ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے، 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق سیاحتی ریونیو 6.8 ارب ڈالر تھا جو بتدریج بڑھ رہا ہے، اور نیوم سٹی جیسے منصوبوں کی تکمیل کے بعد سیاحت میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔
حج سفارتکاری
سعودی عرب کی اگر صرف حج اور عمرہ زائرین سے متعلق بات کی جائے تو حالیہ برسوں میں سعودی حکومت نے اِس شعبے میں کئی نئی جدتیں متعارف کروائی ہیں۔ اراکینِ حج کی ادائیگی ہو یا پھر ریاض الجنۃ کی عبادت، گزشتہ چند برسوں میں اِن ساری چیزوں کو ڈیجٹلائز کر دیا گیا ہے اُن کے لئے موبائل ایپس متعارف کروا دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ عمرہ اور زیارات کے ویزوں میں بھی آسانیاں پیدا کر دی گئی ہیں۔
بطور خادم حرمین الشریفین سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جس کا پوری مسلم دُنیا احترام کرتی ہے۔ سعودی حکومت بھی حج کے مقدس فریضے میں حجاج کی خدمت کے ذریعے، اُن کو تحائف دے کر اُن کا شاندار استقبال کرے اپنا مثبت چہرہ اُجاگر کرتی ہے۔اس سال سعودی حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے 17 لاکھ سے زائد حجاج کو مثالی سہولیات فراہم کیں اور اُن کو یادگاری تحائف بھی دئیے۔
سعودی حکومت ہر سال مختلف ممالک کے علماء، سیاسی و سماجی رہنماؤں، مسلم اقلیتوں کے نمائندوں اور دیگر ممتاز شخصیات کو شاہی مہمان کے طور پر حج کی دعوت دیتی ہے تاکہ عالمِ اسلام کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوں۔ اِس سال خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے خصوصی پروگرام کے تحت 104 ممالک سے 2,500 مرد و خواتین کو مکمل سرکاری خرچ پر حج کے لیے مدعو کیا گیا، جن کے سفری اخراجات، رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات سعودی حکومت نے برداشت کیے۔
مزید پڑھیں:قیام امن میں سعودی عرب کا قائدانہ کردار، تحمل اور سفارتکاری نے خطے کو بڑی جنگ سے بچالیا
محمد بن سلمان کا وژن 2030
40 سالہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے وژن 2030 کے تحت سعودی عرب میں سماجی حوالوں سے کئی اہم تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں جن میں خواتین کے حقوق میں بہتری سمیت کئی اہم اقدامات شامل ہیں۔
اُن کے والد شاہ سلمان بن عبدالعزیز 2015 میں سعودی عرب کے بادشاہ بنے تو 21 جون 2017 کو محمد بن سلمان کو ولی عہد نامزد کیا۔ لیکن ولی عہد بننے سے قبل ہی وہ 2015 سے شاہ سلمان کی کابینہ کا حصہ تھے۔ وہ اُس وقت وزیردفاع کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور ترقیاتی کونسل کے چیئرمین بھی تھے۔ محمد بن سلمان 2015 سے ہی حکومتی اُمور چلانے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور 2017 میں اُنہیں باقاعدہ ولی عہد نامزد کر دیا گیا۔
سعودی ویژن 2030، 3 ہزار ارب ڈالر کی لاگت سے سعودی عرب کی معیشت، ثقافت، سیاحت اور طرز زندگی کو بدلنے کا ایک منصوبہ ہے جس کے نتیچے میں سینکڑوں منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔ اس منصوبے کے بنیادی اجزا میں مالیاتی اداروں کی ترقی، خود انحصار معیشت، صحت عامہ کے شعبے میں تبدیلیاں، گھروں کی تعمیر، انسانی وسائل کی ترقی یا دوسرے معنوں میں انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی، صنعت اور نقل و حرکت کے ذرائع کی ترقی، زرعی خود انحصاری، حج اور عمرہ زائرین کے لیے سہولیات کی دستیابی، نجکاری، عوامی سرمایہ کاری کے منصوبے، اور معیار زندگی کو بہتر کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔
بین الاقوامی سفارتکاری
حالیہ ایران امریکا جنگ اور مذاکرات میں سعودی سفارتکاری کا ایک بڑا عمل دخل ہے اور اِس کے ساتھ ساتھ بے مثال تحمل اور بردباری جس نے جنگ کے شعلوں کو بڑھنے سے روکا۔ اس سے قبل پاک بھارت فوجی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے اہم کرادار ادا کیا۔ سعودی وزیرِخارجہ فیصل بن فرحان پاکستانی وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے جبکہ سعودی وزیرمملکت برائے اُمور خارجہ عادل الجبیر نے نئی دہلی اور اسلام آباد کے دورے کر کے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لئے کامیاب سفارت کاری کی۔
اس سے قبل 24 مارچ 2025 کو سعودی عرب نے یوکرین تنازع پر امریکا اور روس کے درمیان بات چیت کے لیے ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا، جس کے لیے اُس کے کرادار کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔
اس سے قبل 2017 میں محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب نے قطر کے ساتھ دیگر خلیجی ممالک بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کے درمیان سفارتی تنازعے کو حل کیا اور 2021 کے العُلا معاہدے کے تحت قطر اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات بحال ہوئے۔
فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے سعودی عرب کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں سعودی عرب او آئی سی کے ہنگامی اجلاس بلا چُکا ہے۔ مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ مغربی دنیا سے سفارتی رابطوں کے لیے بھی سعودی کردار اہم ہے۔
خواتین کے حقوق میں کردار
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنےکے بعد سے سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے سلسلے میں کئی اہم اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔ اُن سے پہلے سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے پر پابندی تھی جو 2018 میں ہٹا دی گئی۔
محمد بن سلمان نے مرد سرپرستی یا گارڈینشپ کے قوانین میں ترامیم کی ہیں جن کے تحت اب سعودی خواتین کو سفر، ملازمت، بیرونِ ملک سفر، پاسپورٹ کے حصول اور بچوں کی رجسٹریشن جیسے کاموں کے لئے مرد سرپرست یعنی شوہر والد یا بھائی کی اجازت درکار نہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین متعارف کروائے گئے، جیسے کہ گھریلو تشدد کے خلاف سخت اقدامات اور خواتین کے لیے قانونی حقوق کو مضبوط کرنا۔ 2018 میں ایک قانون منظور کیا گیا جس کے تحت ہراسانی کے واقعات پر سزا کو سخت کیا گیا، جو خواتین کی حفاظت کے لیے اہم تھا۔
محمد بن سلمان نے خواتین کو عوامی مقامات پر جیسا کہ سینما گھروں، کنسرٹس، اور کھیلوں کے ایونٹس میں خواتین کو شرکت کی اجازت دی۔ خواتین کے لیے اسٹیڈیمز میں داخلے کی اجازت اور مخلوط تقریبات کے انعقاد نے معاشرتی پابندیوں کو کم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی پولیس کے اختیارات کو محدود کر کے خواتین پر لباس اور طرز عمل کے سخت قوانین میں نرمی کی گئی۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے، مانسہرہ کے شہریوں کی متفقہ رائے
مذہبی اعتدال پسندی
محمد بن سلمان نے سعودی عرب کو اعتدال پسند اسلامی ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں مذہبی پولیس کے اختیارات کو محدود کرنا اور روایتی جنسی تفریق کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے اسلام کو میانہ رو اور روادر مذہب قرار دیا ہے، جو عالمی سطح پر سعودی عرب کے امیج کو بہتر بنانے کی کوشش ہے۔ مذہبی پولیس کے اختیارات کم کر دیے گئے ہیں اور بلا تفریقِ جنس لوگوں کے تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر سے پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔














