سعودی عرب کی امدادی ایجنسی شاہ سلمان ریلیف سینٹر نے غزہ میں ایک اہم اقدام کے تحت ایک ہزار سے زائد کمزور افراد اور معذور افراد کو فنی اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شاہ سلمان ریلیف سینٹر کا پاکستان میں 5 ہزار اسکول تعمیر کرنے کا اعلان
یہ منصوبہ سعودی سینٹر فار کلچر اینڈ ہیریٹیج کے اشتراک سے ’اکنامک ایمپاورمنٹ پروجیکٹ‘ کے تحت چلایا جا رہا ہے، جس کا مقصد متاثرہ افراد کو روزگار کے قابل بنانا اور ان کی معاشی خود کفالت میں مدد فراہم کرنا ہے۔
ابتدائی مرحلے کا افتتاح حال ہی میں دیر البلح، وسطی غزہ میں کیا گیا، جس میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں سمیت مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
#Saudi Arabia’s @KSRelief_EN is training over 1,000 vulnerable #Gazans and persons with disabilities in vocational and digital skills — from graphic design to handicrafts — as part of its Economic Empowerment Project. https://t.co/eUbmFBE0Qf pic.twitter.com/HECqfUPKgr
— Arab News (@arabnews) June 20, 2026
اس پروگرام کے تحت شرکاء کو 130 گھنٹوں پر مشتمل تربیت دی جا رہی ہے، جو آٹھ مختلف فنی اور ڈیجیٹل شعبوں پر محیط ہے۔ ان میں گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ترجمہ، فری لانسنگ، ورچوئل اسسٹنٹ، اور ریموٹ بزنس مینجمنٹ شامل ہیں، جبکہ روایتی ہنر جیسے مردانہ و زنانہ بیوٹی سروسز، کڑھائی، سلائی اور دستکاری کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔
تربیت مکمل کرنے والے افراد کو ڈپلومہ سرٹیفیکیٹ اور عملی ٹول کٹ بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ آسانی سے روزگار حاصل کر سکیں۔
اسی دوران ’کے ایس ریلیف‘ کی جانب سے غزہ کے بے گھر خاندانوں کے لیے خیموں کی ایک نئی امدادی کھیپ بھی ارسال کی گئی ہے، جو شراکتی ادارے کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں تقسیم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:شاہ سلمان ریلیف سینٹر پاکستان میں امدادی منصوبوں کے معاہدوں پر دستخط کرے گا
ادارہ غزہ میں روزانہ ہزاروں گرم کھانوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے تحت حالیہ دنوں میں مجموعی طور پر 76 ہزار سے زائد کھانے تقسیم کیے گئے۔
یہ تمام اقدامات سعودی عرب کی اس وسیع انسانی پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد غزہ کے عوام کی فوری امداد اور طویل المدتی بحالی دونوں کو یقینی بنانا ہے۔














