ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آج ہوگا۔ جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ان کا قیام ایک یا 2 روز تک متوقع ہے اور دورے کا مقصد جوہری معاملے پر پیشرفت اور لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے اقدامات کو آگے بڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکا مذاکرات کے تکنیکی دور میں شریک ہوں گے
ایران امریکا مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی نائب صدر کے علاوہ سابقہ رابطوں میں اہم کردار ادا کرنے والے امریکی نمائندے بھی مذاکراتی عمل کا حصہ ہوں گے، جبکہ قطر کے نمائندے بھی فریقین کے درمیان رابطوں میں معاونت کریں گے۔
امریکی صدر کے خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی جانب سے بھی وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مذاکراتی عمل میں شرکت متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تعطل کے بعد ایران امریکا مذاکرات کا دوبارہ آغاز، پاکستان ثالثی میں متحرک
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد ہونے والے تکنیکی مذاکرات کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی، اعتماد سازی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر پیشرفت کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جوہری معاملات کے ساتھ ساتھ لبنان کی صورتحال بھی مذاکرات میں اہم موضوع رہے گی، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی نے سفارتی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اس اہم مذاکراتی دور پر مرکوز ہیں۔













