امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کوئی ٹول یا فیس عائد نہیں کی جائے گی، تاہم انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی چارج عائد ہوا تو وہ صرف امریکا کی جانب سے ہوگا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
US President Donald Trump said no tolls will be charged for ships transiting the Strait of Hormuz during the 60-day ceasefire period. He, however, left open the possibility of a Hormuz toll levied by the United States "for services rendered as the Guardian Angel to the countries… pic.twitter.com/zewtETDelw
— IndiaToday (@IndiaToday) June 21, 2026
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدائی 60 روزہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی فیس نہیں لی جائے گی، اور اس کے بعد بھی کوئی ٹول نافذ نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ یہ امریکا کے مفاد میں ہو۔ ان کے مطابق اگر معاہدہ حتمی شکل اختیار نہ کر سکا تو امریکا اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اس راستے پر چارجز عائد کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا اہم مرحلہ، جے ڈی وینس سمیت امریکی وفد سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا
آبنائے ہرمز پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا اہم مرکز رہی ہے۔ عالمی توانائی کا ایک بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے اس علاقے کی صورتحال عالمی منڈیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ مفاہمتی یادداشت کے مطابق 60 روزہ عبوری دور میں اس راستے کو کھلا رکھنے اور کسی بھی فریق کو ٹول عائد کرنے سے روکا گیا ہے۔
🚨🇮🇷 BREAKING: IRGC declares the Strait of Hormuz closed, warning that any vessel approaching the waterway will be treated as a target unless U.S. and Israeli demands are met. pic.twitter.com/wlQlFlfzmG
— IRAN IRGCC (@IranIRGCC) June 19, 2026
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور خطے میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا ہے، جبکہ امریکا کے سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحری آمدورفت بدستور جاری ہے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل بھی عندیہ دیا تھا کہ امریکا اس اسٹریٹجک راستے پر سیکیورٹی فیس یا ٹول سسٹم متعارف کرا سکتا ہے، جس کے بدلے واشنگٹن خطے میں سلامتی کی خدمات فراہم کرے گا۔ ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق کوئی بھی یکطرفہ اقدام نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ عالمی توانائی اور تجارت کے نظام پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی کشیدگی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔














