قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا، 54 افراد زخمی، 18 لاپتا

پیر 22 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قطر کے اہم مائع قدرتی گیس (ایل این جی) مرکز راس لفان انڈسٹریل سٹی میں واقع بارزان گیس سپلائی فیسلٹی میں دھماکے اور آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم 54 افراد زخمی جبکہ 18 لاپتا ہو گئے ہیں۔ قطری حکام کے مطابق حادثہ آپریشنز کے آغاز کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

سرکاری توانائی کمپنی قطر انرجی کے مطابق راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آپریشنز کے آغاز کے دوران بارزان مقامی گیس سپلائی فیسلٹی میں حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دھماکا اور آگ بھڑک اٹھی۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہنگامی امدادی ٹیموں کو فوری طور پر موقع پر روانہ کیا گیا اور آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

قطر کی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی کہ حادثے میں 54 افراد زخمی ہوئے جبکہ 18 افراد لاپتا ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ وزارت کے مطابق واقعہ ایک ’تکنیکی حادثے‘ کا نتیجہ تھا اور اس سے کسی قسم کی گیس لیکج نہیں ہوئی جس سے عوامی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا۔

بیان میں کہا گیا کہ قطری بین الاقوامی سرچ اینڈ ریسکیو گروپ سول ڈیفنس کے عملے کے تعاون سے لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔

وزارتِ داخلہ نے ابتدائی طور پر واقعے کو’اندرونی دھماکا ‘ قرار دیا، جبکہ بعد ازاں جاری کیے گئے بیان میں واضح کیا گیا کہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔

وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میں واقع ایک فیکٹری میں پیش آنے والے حادثے میں مجموعی طور پر 54 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 18 لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

قطر کے اہم مائع قدرتی گیس (ایل این جی) مرکز راس لفان انڈسٹریل سٹی میں واقع بارزان گیس سپلائی فیسلٹی، اپریل 2009 کی تصویر

تاہم قطر انرجی نے یہ واضح نہیں کیا کہ دھماکے سے گیس تنصیب کو کس حد تک نقصان پہنچا ہے۔ مذکورہ پلانٹ ملکی ضروریات کے لیے گیس کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک عینی شاہد نے بتایا تھا کہ دارالحکومت دوحہ میں بھی ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، جو راس لفان تنصیب کے جنوب میں واقع ہے۔

جنگ کے بعد پہلے سے متاثر تنصیبات

راس لفان کی توانائی تنصیبات اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران بھی شدید متاثر ہوئی تھیں۔ ایرانی حملوں میں خلیجی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں قطر کو گیس کی پیداوار عارضی طور پر روکنا پڑی تھی۔

دنیا میں مائع قدرتی گیس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل قطر نے 2 مارچ کو ایرانی ڈرون حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار معطل کر دی تھی۔ ان حملوں میں توانائی کے اہم مراکز کو نقصان پہنچا تھا۔

بعد ازاں 18 مارچ کو ہونے والے مزید حملوں کے باعث برآمدی صلاحیت میں تقریباً 17 فیصد کمی آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس وقت قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے کہا تھا کہ متاثرہ تنصیبات کی مکمل بحالی میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔

قطر عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے اور امریکا، آسٹریلیا اور روس کے ساتھ عالمی توانائی منڈی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ حادثے نے ایک بار پھر ملک کے توانائی کے شعبے اور خطے کی توانائی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’70 لاکھ کا نقصان ہوگیا، قرضوں تلے دب گئے ہیں‘، اسلام آباد اتوار بازار میں آتشزدگی پر متاثرہ دکاندار رو پڑا

سیاسی جماعتیں ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لیں، مکالمے اور میثاقِ جمہوریت کی روح کو بحال کرنا ہوگا، خواجہ آصف

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

ایران امریکا مذاکرات: پاکستان کی ثالثی میں 3 تکنیکی ورکنگ گروپس قائم کر دیے گئے، اگلے منگل یا بدھ کو مذاکرات دوبارہ ہوں گے، دفتر خارجہ

سستے اسمارٹ گلاسز مارکیٹ میں لانے کی تیاریاں، کیا اب اسمارٹ فونز کا دور ختم ہونے والا ہے؟

ویڈیو

پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت متعدد بڑے معاشی منصوبوں کی بحالی کے امکان روشن

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ تاریخ، اعتماد اور مذہبی وابستگی پر استوار ہیں، رحمان حیات

کراچی کے شہری سندھ حکومت کی کارکردگی سے کس قدر مطمئن ہیں؟

کالم / تجزیہ

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا