اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

بدھ 24 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر ایک مرتبہ پھر خریداری کا رجحان ریکارڈ کیا گیا، جہاں انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔

صبح 10 بج کر 5 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 652.68 پوائنٹس یعنی 0.37 فیصد اضافے کے بعد 178,345.60 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان غالب، انڈیکس میں 500 پوائنٹس کا اضافہ

مارکیٹ میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پاور جنریشن کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔

کے الیکٹرک، ماری انرجی، او جی ڈی سی ایل، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک جیسے انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے بڑے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

گزشتہ روز یعنی منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار رہی تھی کیونکہ خطے میں جاری جغرافیائی و سیاسی صورتحال سے متعلق غیر یقینی کیفیت کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے۔

منافع کے حصول اور بڑے شعبوں میں فروخت کے دباؤ کے سبب مسلسل دوسرے سیشن میں مارکیٹ خسارے میں بند ہوئی تھی۔

کے ایس ای 100 انڈیکس 778.95 پوائنٹس یا 0.44 فیصد کمی کے بعد 177,692.92 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان برقرار، سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط

دوسری جانب عالمی مارکیٹوں میں بھی ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں بدھ کے روز اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔

ایک روز قبل عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں فروخت کے دباؤ کے بعد تجزیہ کاروں نے مارکیٹ میں مزید غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.02 فیصد نیچے رہا۔

جنوبی کوریا کی مارکیٹ، جو منگل کو مارچ کے بعد اپنی بدترین یومیہ گراوٹ کے دوران 10 فیصد تک گر گئی تھی، بدھ کو 2.2 فیصد بحال ہوئی۔

جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس بھی منافع اور خسارے کے درمیان جھولتا رہا اور آخرکار 0.8 فیصد کمی پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔

وال اسٹریٹ میں بھی سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اپنایا، مصنوعی ذہانت پر قرض لے کر بڑھتے ہوئے اخراجات اور اس خدشے کے باعث کہ امریکی فیڈرل ریزرو مزید سخت مالیاتی پالیسی اختیار کر سکتا ہے، امریکی حصص بازاروں میں مندی دیکھی گئی۔

مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟

ادھر تیل کی قیمتوں میں بھی ہفتے بھر سے جاری کمی کا سلسلہ برقرار رہا۔ خام تیل کی قیمتیں گزشتہ سیشن میں دیکھی گئی 4 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتی رہیں۔

اس کی وجہ یہ توقعات ہیں کہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد خلیجی علاقے میں پھنسے مزید آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع کر دیں گے، جس سے سپلائی کے خدشات میں کمی آئے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ حساس، انہیں حقِ رائے دہی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، رانا ثنااللہ

ٹرمپ اور امریکا پر عالمی اعتماد میں ریکارڈ کمی، نئی سروے رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف

’70 لاکھ کا نقصان ہوگیا، قرضوں تلے دب گئے ہیں‘، اسلام آباد اتوار بازار میں آتشزدگی پر متاثرہ دکاندار رو پڑا

سیاسی جماعتیں ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لیں، مکالمے اور میثاقِ جمہوریت کی روح کو بحال کرنا ہوگا، خواجہ آصف

ویڈیو

پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت متعدد بڑے معاشی منصوبوں کی بحالی کے امکان روشن

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ تاریخ، اعتماد اور مذہبی وابستگی پر استوار ہیں، رحمان حیات

کراچی کے شہری سندھ حکومت کی کارکردگی سے کس قدر مطمئن ہیں؟

کالم / تجزیہ

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا