’70 لاکھ کا نقصان ہوگیا، قرضوں تلے دب گئے ہیں‘، اسلام آباد اتوار بازار میں آتشزدگی پر متاثرہ دکاندار رو پڑا

بدھ 24 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-9 میں واقع سستے بازار میں گزشتہ روز اچانک لگنے والی ہولناک آگ نے بازار کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں تقریباً 335 دکانیں اور اسٹالز جل کر خاکستر ہوگئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث بھڑکی جبکہ دکانوں میں موجود بیٹریوں کے پھٹنے سے آگ کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ ریسکیو اور فائر فائٹنگ ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا۔

واقعے کے بعد متاثرہ دکاندار شدید صدمے اور پریشانی میں مبتلا نظر آئے۔ متعدد دکانداروں نے اپنے کاروبار کو پہنچنے والے بھاری مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ ایک متاثرہ دکاندار نے دعویٰ کیا کہ اس کا 70 سے 80 لاکھ روپے تک کا نقصان ہوا ہے اور وہ قبضے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی انتظامیہ بھی ہم سے پیسے لے گی کہ ہم نے یہاں سے کچرا اٹھایا ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ آگ انتظامیہ والے خود لگاتے ہیں اور ان سے سوال کریں کہ یہ آگ کیسے لگی۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر شدید ردِعمل سامنے آیا جہاں صارفین نے سوال اٹھایا کہ سستے بازار میں تقریباً ہر سال آگ لگنے کے واقعات کیوں پیش آتے ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے۔

فرحان خان لکھتے ہیں کہ اسلام آباد کے ایچ نائن بازار میں ہر کچھ عرصے بعد آگ بھڑک اٹھنے کو محض حادثہ قرار دے کر آگے گزر جانا درست نہیں۔ اس سے قبل لگنے والی آگ کے بارے میں بھی وہاں کے دکان دار بہت شکوک کا اظہار کر رہے تھے۔ اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیق ہونا ضروری ہے۔

ہرمیت سنگھ نے کہا کہ پشاور موڑ کے اتوار بازار میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی، اور دیکھتے ہی دیکھتے پل بھر میں سب کچھ جل کر خاکستر ہو گیا۔ہر سال یہی منظر، ہر سال یہی نقصان، مگر سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے یہ آگ خود لگتی ہے یا لگائی جاتی ہے؟

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ماضی میں متعدد بار آگ لگنے سے سینکڑوں دکانیں اور اسٹالز متاثر ہو چکے ہیں، تاہم فائر سیفٹی کے مؤثر اقدامات اب تک نظر کیوں نہیں آتے اس کا زمہ دار کون ہے؟

متاثرہ دکانداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان کے نقصانات کا ازالہ کریں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟

مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ حساس، انہیں حقِ رائے دہی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، رانا ثنااللہ

ٹرمپ اور امریکا پر عالمی اعتماد میں ریکارڈ کمی، نئی سروے رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف

سیاسی جماعتیں ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لیں، مکالمے اور میثاقِ جمہوریت کی روح کو بحال کرنا ہوگا، خواجہ آصف

ویڈیو

پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت متعدد بڑے معاشی منصوبوں کی بحالی کے امکان روشن

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ تاریخ، اعتماد اور مذہبی وابستگی پر استوار ہیں، رحمان حیات

کراچی کے شہری سندھ حکومت کی کارکردگی سے کس قدر مطمئن ہیں؟

کالم / تجزیہ

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا