اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-9 میں واقع سستے بازار میں گزشتہ روز اچانک لگنے والی ہولناک آگ نے بازار کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں تقریباً 335 دکانیں اور اسٹالز جل کر خاکستر ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث بھڑکی جبکہ دکانوں میں موجود بیٹریوں کے پھٹنے سے آگ کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ ریسکیو اور فائر فائٹنگ ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آتشزدگی کا بڑا واقع ۔ اسلام آباد کے سب بڑے اتوار بازار میں آگ کے شعلوں سینکڑوں دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا pic.twitter.com/zD4pbozzjf
— Sanaullah Khan (@SanaullahDawn) June 23, 2026
واقعے کے بعد متاثرہ دکاندار شدید صدمے اور پریشانی میں مبتلا نظر آئے۔ متعدد دکانداروں نے اپنے کاروبار کو پہنچنے والے بھاری مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ ایک متاثرہ دکاندار نے دعویٰ کیا کہ اس کا 70 سے 80 لاکھ روپے تک کا نقصان ہوا ہے اور وہ قبضے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی انتظامیہ بھی ہم سے پیسے لے گی کہ ہم نے یہاں سے کچرا اٹھایا ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ آگ انتظامیہ والے خود لگاتے ہیں اور ان سے سوال کریں کہ یہ آگ کیسے لگی۔
🔥💔اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی
اس بھائی کا80 لاکھ کا نقصان ہوا ہے 💔
اس آگ نے کتنے گھر اجاڑ دیے جب مرد روتا ہے تو سمجو درد حد سے زیادہ ہے💔#Islamabadians #Islamabad #CapitalPeacePulse #viralpost2026 pic.twitter.com/L185hD1ZwU— Merub Awan (@MerubAwan) June 24, 2026
دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر شدید ردِعمل سامنے آیا جہاں صارفین نے سوال اٹھایا کہ سستے بازار میں تقریباً ہر سال آگ لگنے کے واقعات کیوں پیش آتے ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے۔
سوال یہ ہے کہ ہر سال دو سال بعد اسی اتوار بازار میں ہی کیوں آگ لگتی ہے ؟ https://t.co/rXPwC8LMZv
— Siddeeq Sajid (@S_SajidOfficial) June 24, 2026
فرحان خان لکھتے ہیں کہ اسلام آباد کے ایچ نائن بازار میں ہر کچھ عرصے بعد آگ بھڑک اٹھنے کو محض حادثہ قرار دے کر آگے گزر جانا درست نہیں۔ اس سے قبل لگنے والی آگ کے بارے میں بھی وہاں کے دکان دار بہت شکوک کا اظہار کر رہے تھے۔ اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیق ہونا ضروری ہے۔
اسلام آباد کے ایچ نائن (اتوار) بازار میں ہر کچھ عرصے بعد آگ بھڑک اٹھنے کو محض حادثہ قرار دے کر آگے گزر جانا درست نہیں۔ اس سے قبل لگنے والی آگ کے بارے میں بھی وہاں کے دکان دار بہت شکوک کا اظہار کر رہے تھے۔
اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیق ہونا ضروری ہے۔ pic.twitter.com/rqm6JtU3l0— Farhan Khan (@TheFarhanAKhan) June 23, 2026
ہرمیت سنگھ نے کہا کہ پشاور موڑ کے اتوار بازار میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی، اور دیکھتے ہی دیکھتے پل بھر میں سب کچھ جل کر خاکستر ہو گیا۔ہر سال یہی منظر، ہر سال یہی نقصان، مگر سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے یہ آگ خود لگتی ہے یا لگائی جاتی ہے؟
پشاور موڑ کے اتوار بازار میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی، اور دیکھتے ہی دیکھتے پل بھر میں سب کچھ جل کر خاکستر ہو گیا۔ہر سال یہی منظر، ہر سال یہی نقصان، مگر سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے:
یہ آگ خود لگتی ہے یا لگائی جاتی ہے؟ pic.twitter.com/54w2mtdE3f— Harmeet Singh (@HarmeetSinghPk) June 23, 2026
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ماضی میں متعدد بار آگ لگنے سے سینکڑوں دکانیں اور اسٹالز متاثر ہو چکے ہیں، تاہم فائر سیفٹی کے مؤثر اقدامات اب تک نظر کیوں نہیں آتے اس کا زمہ دار کون ہے؟
اسلام آباد اتوار بازار میں مبینہ طور پر بار بار آگ لگنے کے واقعات، انتظامی کمزوری پر سوالیہ نشان !
اسلام آباد کے H-9 اتوار بازار میں ایک بار پھر آتشزدگی کے خدشات اور ماضی کے واقعات نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، ذرائع کے مطابق ماضی میں متعدد بار آگ لگنے سے… pic.twitter.com/CFuhx17gaP
— Ishtiaq Ali (@IAmIshtiaqAli) June 23, 2026
متاثرہ دکانداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان کے نقصانات کا ازالہ کریں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔














