حقیقی بلوغت کی عمر کیا ہے، سائنس نے برسوں پرانا تصور چیلنج کر دیا

پیر 22 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسانی دماغ 25 سال کی عمر میں مکمل طور پر نشوونما پا لیتا ہے لیکن نئی سائنسی تحقیقات نے اس مقبول تصور کو چیلنج کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دماغ کی نشوونما کسی ایک مخصوص عمر میں مکمل نہیں ہوتی بلکہ اس کا عمل بتدریج کئی برسوں تک جاری رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی لگ بھگ آدھی بالغ آبادی فیٹی لیور کے مرض میں مبتلا ہوچکی، ماہرین صحت

ماہرین کے مطابق 25 سال کی عمر کا تصور دراصل ابتدائی تحقیقی مطالعات سے سامنے آیا تھا جن میں شرکا کا مشاہدہ تقریباً 20 سال کی عمر تک کیا گیا تھا۔ بعد ازاں محققین نے اندازہ لگایا کہ دماغ کی نشوونما تقریباً 25 برس تک جاری رہتی ہوگی اور یہی اندازہ وقت کے ساتھ ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر دہرایا جانے لگا۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ درحقیقت سائنس دانوں نے کبھی بھی یہ ثابت نہیں کیا کہ دماغ کی نشوونما 25 سال کی عمر میں مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔

سنہ2017  میں کرسچین ٹیمنیس کی قیادت میں ہونے والی ایک تحقیق، جو جرنل آف نیورو سائنس میں شائع ہوئی، میں انسانی دماغ کے گرے میٹر کی موٹائی کا مختلف عمروں میں جائزہ لیا گیا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ گرے میٹر، جو دماغ میں معلومات کو پراسیس کرنے کا اہم حصہ ہے، نوجوانی کے دوران بتدریج پتلا ہوتا رہتا ہے اور 20 کی دہائی میں نسبتاً مستحکم ہونے لگتا ہے۔ تاہم محققین واضح کرتے ہیں کہ مستحکم ہونا اور نشوونما مکمل ہو جانا 2 مختلف باتیں ہیں۔

ماہرین کے مطابق دماغ کے بعض حصے نوجوانی ہی میں اپنی بالغ شکل اختیار کر لیتے ہیں لیکن فیصلہ سازی، خود پر قابو رکھنے، جذبات پر کنٹرول اور نتائج کا اندازہ لگانے والے حصے 20 اور بعض اوقات 30 سال کی عمر تک بھی ترقی کرتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیے: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟

ان کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ میں کوئی ایسا ’آن‘ یا ’آف‘ سوئچ موجود نہیں جو کسی ایک عمر پر پہنچ کر اچانک نشوونما روک دے بلکہ دماغ کے مختلف حصے مختلف رفتار سے ارتقا پاتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک میں اگرچہ 18 یا 21 سال کی عمر کو قانونی طور پر بلوغت کی عمر قرار دیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ووٹ ڈالنے، شادی کرنے، معاہدے کرنے اور صحت سے متعلق فیصلوں کا اختیار دیا جاتا ہے لیکن نیورو سائنس کے مطابق خطرات کا درست اندازہ لگانے اور نتائج پر غور کرنے والا دماغی نظام اس عمر میں بھی مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نوجوان ذمہ دار فیصلے نہیں کر سکتے بلکہ یہ کہ دماغ کی نشوونما ایک مسلسل عمل ہے جو مختلف افراد میں مختلف رفتار سے جاری رہتا ہے۔

مزید پڑھیں: دماغ کی صلاحیت بلند ترین سطح پر کب پہنچتی ہے، اس کی عمر کے 5 مراحل کونسے؟

ان کے مطابق انسان کے بالغ ہونے کا تعین صرف عمر سے نہیں بلکہ ذہنی، جذباتی اور دماغی پختگی سے بھی ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر فرد کی ذہنی نشوونما ایک جیسی رفتار سے نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp