اسرائیلی حملوں نے امریکا ایران مذاکرات کو پٹڑی سے اتار دیا تھا، اسحاق ڈار کا العربیہ کو انٹرویو

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کو قریباً ناکام بنا دیا تھا، تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔

العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں شروع ہونے والے مذاکرات امریکا اور ایران کے سفارتی عمل کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہیں، جن میں جوہری پروگرام، پابندیوں اور منجمد اثاثوں کے معاملات سمیت لبنان کی صورتحال پر ورکنگ گروپس کام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 19 نئے سفیروں اور قونصل جنرلز کی تقرری کا اعلان کردیا

انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات چند روز قبل شروع ہو سکتے تھے، تاہم لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث تمام پیشرفت رک گئی تھی اور مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔

وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دفتر خارجہ کے حکام بھی برگن اسٹاک میں موجود رہے، جہاں امریکی اور ایرانی وفود نے مذاکرات میں شرکت کی۔

اسحاق ڈار نے حالیہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کو مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک قابل اعتماد فریم ورک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سوچا سمجھا اور دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول دستاویز ہے، جس پر دستخط کرنے والے ممالک کے ارادوں پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض معاملات کو نمٹانے کے لیے مذاکرات کاروں کو 30 دن کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ مجموعی اور حتمی معاہدہ 60 روز کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں کمی کے معاشی فوائد سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت بھی بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں:اسحاق ڈار نے کاروبار دوست بجٹ پیش کرنے کی نوید سنا دی

اسحاق ڈار نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ وہاں جہاز رانی کا نظام 28 فروری سے پہلے والی صورتحال پر بحال ہو، یعنی تجارتی جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا ٹول عائد نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس نہ لینے کی ضمانت دی گئی ہے، جبکہ اس دوران علاقائی ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد مستقل طریقہ کار طے کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی