ایک رات کے تقریباً 4 لاکھ روپے: نتھیا گلی کے ہوٹل کرایوں نے صارفین کو حیران کردیا

منگل 23 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیاحتی مقامات خصوصاً نتھیا گلی میں ہوٹل کے بڑھتے ہوئے کرایوں پر سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی ہے جہاں ایک رات کے قیام کے لیے قیمتوں کو غیر معمولی طور پر زیادہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر صحافی عمر قریشی  نے ایک ہوٹل کے کرایوں کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مختصر ویک اینڈ گیٹ وے کے لیے ہوٹل کے آپشنز دیکھتے ہوئے یہ صورتحال حیران کن ہے۔ صارف نے لکھا کہ نتھیا گلی میں ایک رات کے ہوٹل کے لیے 1400 ڈالر (تقریباً 3 لاکھ 89 ہزار پاکستانی روپے) سے زائد قیمت کیوں ادا کی جائے اور یہی سوال پاکستان کے دیگر سیاحتی مقامات پر بھی اٹھتا ہے کہ آخر اتنی زیادہ قیمتیں کیوں وصول کی جا رہی ہیں؟

ان کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں بھی اس سے کم قیمت پر ہوٹل دستیاب ہوتے ہیں اس لیے یہ قیمت انتہائی زیادہ اور غیر معمولی ہے۔

اس ٹویٹ کے بعد آن لائن صارفین کی جانب سے بھی مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں کچھ افراد کا کہنا ہے کہ سیاحتی مقامات پر مہنگائی اور محدود سہولیات قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں جبکہ دیگر صارفین کے مطابق ہوٹل انڈسٹری میں غیر معمولی قیمتوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

کئی صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں انڈونیشیا اور ترکیہ میں اس سے کہیں بہتر معیار کے ہوٹل کم قیمت میں دستیاب ہو جاتے ہیں جبکہ نتھیا گلی جیسے سیاحتی مقام پر اتنے زیادہ کرایے وصول کیے جانا غیر ضروری اور مہنگا عمل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پولینڈ میں ایک شخص کی اندھا دھند فائرنگ،5 افراد ہلاک، درجن سے زیادہ زخمی

ایران کے زمینی اور بحری راستوں کی نگرانی بڑھانے کے لیے امریکا کا نئی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان

ایران کے ایٹمی راز بتانے والے کو 20 ملین ڈالر اور محفوظ پناہ دی جائے گی، امریکا کا اعلان

طالبان ترجمان ذبیع اللہ کا ’داعش‘ کے مکمل خاتمے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد نکلا، 2 ہزار دہشتگردوں کی موجودگی برقرار

ایرانی شہری کو غیر قانونی پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرنے کا الزام، نادرا کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟