وزیراعظم آزاد کشمیر نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کے رہنماؤں کو عام معافی دینے کا امکان مسترد کردیا ہے۔
مائیکروبلاگنگ سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ثالثی کی اپیل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے حکومت کا پہلے دن سے قائم مؤقف درست ثابت ہو گیا ہے کہ مسائل صرف میز پر بیٹھ کر حل ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کو دھچکا، راجا امجد کے بعد اہم کور ممبر انجم زمان نے بھی علیحدگی کا اعلان کردیا
مولانا فضل الرحمان نے اپنے ویڈیو پیغام میں ثالثی کی دعوت قبول کرتے ہوئے کمیٹی سے دھرنا مؤخر کرنے کی اپیل کی تھی تاکہ آزاد کشمیر حکومت کو بات چیت پر آمادہ کیا جا سکے، تاہم وزیراعظم راٹھور نے خبردار کیا ہے کہ تاجروں کو دکانیں بند کرنے کے لیے ہراساں کرنے والے عناصر اور مظفرآباد کی طرف مارچ کی دھمکیوں سے قانون کے مطابق پوری طاقت سے نمٹا جائے گا، کسی کو عام معافی نہیں دی جائے گی۔
Isn’t this what we’ve been asking from them since Day 1?
We asked them not to leave dialogue. They showed zero flexibility. I personally appealed to them on numerous occasions to call off their lockdown, end their campaign of agitation and return to the table. They ignored.… pic.twitter.com/DPnCaDIeM0
— Faisal Mumtaz Rathore (@PMofAJK) June 23, 2026
وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے پیغام میں کہا کہ کیا یہ وہی بات نہیں ہے جو ہم پہلے دن سے ان سے کہہ رہے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ان سے مذاکرات کا راستہ نہ چھوڑنے کی اپیل کی لیکن انہوں نے لچک کا ذرا سا بھی مظاہرہ نہیں کیا۔ میں نے خود متعدد مرتبہ ان سے لاک ڈاؤن ختم کرنے، احتجاجی مہم روکنے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی ذاتی اپیلیں کیں لیکن انہوں نے ان تمام کوششوں کو یکسر نظرانداز کر دیا۔
وزیراعظم فیصل راٹھور نے کالعدم تنظیم کے تضاد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے امور میں نام نہاد ‘سیاسی مداخلت’ کے خلاف نعرے لگانے کے بعد اب یہی لوگ ثالثی کے لیے پاکستان کی سیاسی جماعت جے یو آئی کے محترم رہنما مولانا فضل الرحمان کے پاس پہنچ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس پورے معاملے میں کسی قسم کی ثالثی کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی، لیکن کالعدم ایکشن کمیٹی نے ریاست کو دھمکانے اور بلیک میل کرنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
یاد رہے کہ کالعدم جے اے اے سی نے مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا، جس پر حکومت نے ‘5’ جون کو اسے کالعدم قرار دے کر اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے فرسٹ شیڈول میں ڈال دیا تھا۔ اس کے بعد کی جانے والی کارروائیوں میں درجنوں رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا جبکہ کالعدم تنظیم کے ‘147’ کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے جاچکے ہیں۔














