آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے بجٹ 27-2026 کی منظوری دے دی۔ نئے بجٹ کا کل حجم 2 کھرب 86 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے آج ہونے والے اسمبلی اجلاس میں بجٹ پیش کیا، جس کے بعد پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کی، اور آج ہی بجٹ کو ایوان سے منظور بھی کروا لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر اسمبلی کا بجٹ اجلاس، اپوزیشن کا احتجاج کے بعد سیشن کا بائیکاٹ
پیر کے روز ایوان میں مالیاتی منصوبہ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے بتایا کہ مجموعی بجٹ میں سے 2 کھرب 50 ارب روپے جاری اخراجات جبکہ 36 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سیاحت کے شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر وسائل فراہم کر رہی ہے اور اسے ایک موثر صنعت میں تبدیل کرنے کے لیے مربوط اور منظم حکمتِ عملی کے تحت عمل پیرا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران سیاحت و آثارِ قدیمہ کے لیے 2 کروڑ 90 لاکھ روپے فراہم کیے گئے تھے، جس کے تحت موجودہ اثاثہ جات کی سہ فریقی تحقیق کروانے کے ساتھ خوبصورت سیاحتی مقامات کی ماسٹر پلاننگ کے لیے مشاورتی خدمات کا حصول یقینی بنایا جائے گا۔
نئے بجٹ میں کل وصولیوں اور آمدن کا تخمینہ 2 کھرب 50 ارب روپے لگایا گیا ہے، جس میں وفاقی ویری ایبل گرانٹ سے 1 کھرب 46 ارب روپے، محکمہ ان لینڈ ریونیو سے 75 ارب 20 کروڑ روپے، بجلی و برقیات سے 18 ارب 50 کروڑ روپے، اور خوراک سے 82 کروڑ 30 کروڑ روپے ملنے کی امید ہے۔
اس کے علاوہ مواصلات و تعمیرات سے 56 کروڑ 4 لاکھ روپے، داخلہ پولیس سے 46 کروڑ روپے، اسٹیمپس سے 45 کروڑ 94 لاکھ 77 ہزار روپے، لا اینڈ آرڈر سے 30 کروڑ 9 لاکھ روپے، تعلیم سے 26 کروڑ 96 لاکھ روپے، صحت سے 23 کروڑ 3 لاکھ 12 ہزار روپے، لینڈ ریکارڈ سے 13 کروڑ 25 لاکھ روپے، جنگلات سے 46 کروڑ 34 لاکھ روپے، اور پرنٹنگ پریس سے 87 کروڑ 6 لاکھ روپے کی وصولی متوقع ہے۔
آمدن کے دیگر ذرائع میں متفرق مد سے 2 ارب 23 کروڑ 36 لاکھ 61 ہزار روپے، واٹر یوزج چارجز سے 2 ارب روپے، لون اینڈ ایڈوانسز سے 1 ارب 80 کروڑ روپے، جنگلی حیات و فشریز سے 9 کروڑ 20 لاکھ روپے، معدنیات سے 8 کروڑ 62 لاکھ روپے، مذہبی امور سے 7 کروڑ 90 لاکھ روپے، اے جے کے ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے 5 کروڑ 55 لاکھ روپے، انڈسٹریز سے 4 کروڑ 96 لاکھ 50 ہزار روپے، لائیو اسٹاک سے 4 کروڑ 24 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر زرداری نے 17.57 کھرب روپے کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی۔
آرمڈ سروسز بورڈ سے 4 کروڑ روپے، زراعت سے 88 لاکھ روپے، لیبر سے 50 لاکھ روپے، ابریشم سے 43 لاکھ 50 ہزار روپے، جیل خانہ جات سے 27 لاکھ 50 ہزار روپے، سیاحت سے 1 کروڑ 24 لاکھ روپے اور سماجی بہبود سے 11 لاکھ روپے کا تخمینہ شامل ہے۔ دوسری جانب جاری اخراجات کے لیے کل 2 کھرب 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سب سے بڑی رقم تعلیم کے لیے 57 ارب 27 کروڑ 51 لاکھ روپے، پنشن کے لیے 53 ارب 50 کروڑ روپے، اور ریاستی تجارت کے لیے 32 ارب 61 کروڑ 6 لاکھ 65 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔
جاری اخراجات کے تحت صحت کے شعبے کے لیے 25 ارب 80 کروڑ 90 لاکھ روپے، داخلہ و پولیس کے لیے 13 ارب 20 کروڑ 54 لاکھ روپے، متفرق گرانٹس کے لیے 10 ارب 62 کروڑ 34 لاکھ 35 ہزار روپے، جنرل ایڈمنسٹریشن کے لیے 9 ارب 64 کروڑ 88 لاکھ روپے، مواصلات و تعمیراتِ عامہ کے لیے 7 ارب 7 کروڑ 26 لاکھ روپے، اور کیپیٹل اخراجات کے لیے 5 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ عدلیہ کے لیے 4 ارب 35 کروڑ 50 لاکھ روپے، ریلیف و بحالیات کے لیے 3 ارب 45 کروڑ 3 لاکھ روپے، بورڈ آف ریونیو کے لیے 2 ارب 26 کروڑ 21 لاکھ روپے، جنگلات، وائلڈ لائف و فشریز کے لیے 2 ارب 50 کروڑ 55 لاکھ روپے، توانائی و آبی وسائل کے لیے 13 ارب 36 کروڑ 34 لاکھ روپے، زراعت کے لیے 1 ارب 48 کروڑ 74 لاکھ روپے، لائیو اسٹاک کے لیے 1 ارب 36 کروڑ 30 لاکھ روپے، لوکل گورنمنٹ کے لیے 1 ارب 31 کروڑ 24 لاکھ روپے، اور سماجی بہبود و ترقیِ نسواں کے لیے 1 ارب 20 کروڑ 1 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
بجٹ میں شہری دفاع کے لیے 57 کروڑ 79 لاکھ روپے، خوراک کے لیے 55 کروڑ 17 لاکھ روپے، جیل خانہ جات کے لیے 52 کروڑ 1 لاکھ روپے، تعلقاتِ عامہ کے لیے 44 کروڑ 32 لاکھ روپے، صنعت، لیبر و معدنی وسائل کے لیے 39 کروڑ 99 لاکھ روپے، مذہبی امور کے لیے 38 کروڑ 32 لاکھ روپے، اسپورٹس، یوتھ و ٹرانسپورٹ کے لیے 23 کروڑ 62 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
سیاحت و آثارِ قدیمہ کے لیے 20 کروڑ 11 لاکھ روپے، پرنٹنگ پریس کے لیے 18 کروڑ 46 لاکھ روپے، ابریشم کے لیے 18 کروڑ 26 لاکھ روپے، آرمڈ سروسز بورڈ کے لیے 14 کروڑ 13 لاکھ روپے، لینڈ ریکارڈ کے لیے 6 کروڑ 66 لاکھ روپے، اسٹیمپس کے لیے 4 کروڑ 89 لاکھ روپے اور کوآپریٹیو کے لیے 1 کروڑ 85 لاکھ روپے مختص ہیں۔
ترقیاتی اخراجات کا کل حجم 36 ارب روپے ہے، جس میں سب سے بڑا حصہ مواصلات و تعمیرات کو 14 ارب روپے، صحتِ عامہ کو 4 ارب 10 کروڑ روپے، تعلیم اور توانائی و آبی وسائل کو 3 ارب 30 کروڑ روپے فی کس، اور لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کو 3 ارب 20 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔
ترقیاتی بجٹ کے دیگر حصوں میں فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ کے لیے 1 ارب 70 کروڑ روپے، گورننس و متفرق کے لیے 1 ارب 35 کروڑ روپے، زراعت و لائیو اسٹاک کے لیے 90 کروڑ روپے، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے لیے 78 کروڑ روپے، جنگلات و واٹر شیڈ کے لیے 60 کروڑ روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے 55 کروڑ روپے، اور صنعت و معدنیات کے لیے 47 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا مجموعی تعلیمی بجٹ 2311 ارب روپے مقرر، بلوچستان فی کس بجٹ میں پنجاب سے تقریباً دُگنا آگے
اس کے ساتھ ہی اسپورٹس، یوتھ اینڈ کلچر کے لیے 35 کروڑ روپے، سیاحت کے لیے 30 کروڑ روپے، سماجی بہبود و ترقیِ نسواں کے لیے 22 کروڑ روپے، ترقیاتی ادارہ جات کے لیے 19 کروڑ روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 15 کروڑ روپے، ٹیکنیکل ایجوکیشن (ٹیوٹا) کے لیے 14 کروڑ روپے، سول ڈیفنس و ایس ڈی ایم اے کے لیے 10 کروڑ روپے، ماحولیات کے لیے 10 کروڑ روپے، انفارمیشن اینڈ میڈیا ڈویلپمنٹ کے لیے 9 کروڑ روپے، لینڈ ایڈمنسٹریشن کے لیے 9 کروڑ روپے اور وائلڈ لائف و فشریز کے لیے 2 کروڑ روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔














