پاکستان کی توانائی خودکفالت کی جانب اہم پیشرفت، سندھ کے نئے کنویں سے گیس کی پیداوار شروع

منگل 30 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی سب سے بڑی سرکاری تیل و گیس کمپنی، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ صوبہ سندھ میں کھودے گئے ایک نئے کنویں سے قدرتی گیس اور کنڈینسیٹ کی پیداوار شروع ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: او جی ڈی سی ایل 2023 سے اب تک تیل اور گیس کے 19بڑے ذخائر دریافت کرچکی

ملکی سطح پر گیس کی نئی پیداوار ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور توانائی کے شعبے میں خود کفالت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے مطابق پیداواری آزمائش کے دوران نئے کنویں سے روزانہ 10.5 ملین معیاری مکعب فٹ قدرتی گیس اور 600 بیرل کنڈینسیٹ حاصل ہوئی۔

کنڈینسیٹ ایک ہلکا ہائیڈروکاربن مائع ہوتا ہے جو قدرتی گیس کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور بعد ازاں اسے ٹرانسپورٹ ایندھن اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ ’چک 63-05‘ نامی یہ کنواں سندھ کے چک فیلڈ میں واقع ہے اور اسے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے زیر انتظام جنوبی گیس ترسیلی نظام سے منسلک کیا جائے گا۔

اس رابطے کے بعد ضروری انفراسٹرکچر کی تکمیل پر کنویں سے باقاعدہ تجارتی بنیادوں پر پیداوار شروع کی جا سکے گی۔

یہ اعلان پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائے گئے ایک ریگولیٹری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔

مزید پڑھیے: او جی ڈی سی ایل نے کوہاٹ میں اہم ہائیڈروکاربن ذخائر دریافت کرلیے

پاکستان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ درآمدی ایندھن پر انحصار ملک کی معیشت کو عالمی توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات سے دوچار کرتا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ ڈالتا ہے۔

حکومت کی توانائی حکمت عملی میں مقامی سطح پر تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانا ایک اہم جزو سمجھا جاتا ہے تاکہ توانائی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور درآمدی بل میں کمی لائی جا سکے۔

اگرچہ نیا کنواں اکیلے پاکستان کے مجموعی توانائی توازن میں بڑی تبدیلی نہیں لائے گا تاہم یہ ایسے وقت میں مقامی گیس کی فراہمی میں اضافہ کرے گا جب ملک کے کئی پرانے گیس فیلڈز کی پیداوار میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: او جی ڈی سی ایل نے غیر روایتی گیس کے منصوبوں میں تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا

او جی ڈی سی ایل کے مطابق، اس کنویں کی کھدائی 3,325 میٹر کی گہرائی تک کی گئی ہے اور اسے گیس کے قومی ترسیلی نظام سے منسلک کرنے کے لیے تیاریاں جاری ہیں تاکہ جلد از جلد پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

چک فیلڈ میں او جی ڈی سی ایل کا 62.5 فیصد حصہ ہے، جبکہ گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے پاس 22.5 فیصد اور اورینٹ پیٹرولیم انکارپوریٹڈ لمیٹڈ کے پاس 15 فیصد شیئرز ہیں۔

اسلام آباد میں قائم او جی ڈی سی ایل پاکستان کی سب سے بڑی تیل و گیس تلاش اور پیداوار کرنے والی کمپنی ہے جو ملک میں خام تیل اور قدرتی گیس کی مجموعی پیداوار میں نمایاں حصہ ڈالتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: او جی ڈی سی ایل غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں سابق وزیر انور سیف اللہ کی نظرثانی درخواست مسترد

ماہرین کے مطابق نئے کنویں سے حاصل ہونے والی اضافی مقامی پیداوار پاکستان کی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی حکومتی کوششوں میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp