مون سون الرٹ: کیا حکومت گلوف اور فلیش فلڈ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک بھر میں مون سون بارشوں کے آغاز کے ساتھ ہی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ اور اچانک آنے والے سیلابوں کے خدشات میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، شدید بارشوں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی اداروں نے حساس علاقوں کے لیے الرٹس جاری کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ یہ خدشات اس لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ گزشتہ سال مون سون کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں، فلیش فلڈز، لینڈ سلائیڈنگ اور بعض مقامات پر کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:مون سون کا پہلا اسپیل، کئی علاقوں میں موسلادھار بارش، شہری سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کا خدشہ، این ڈی ایم اے

یاد رہے کہ بالائی چترال، اپر دیر، سوات، کمراٹ، کوہستان، مانسہرہ اور دیگر پہاڑی علاقوں میں طغیانی، سڑکوں اور پلوں کی تباہی، سیاحوں کے پھنس جانے اور آبادیوں کے زمینی رابطے منقطع ہونے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے۔

صوبائی اور وفاقی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کے مطابق مون سون 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ سینکڑوں مکانات، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کے یہ واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں شمالی پاکستان کے پہاڑی علاقے اب پہلے سے زیادہ حساس ہو چکے ہیں، اس لیے بروقت وارننگ، مؤثر نگرانی اور فوری ردعمل انتہائی ضروری ہے۔

اس تناظر میں اب خیبر پختونخوا کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ کے خدشے کے پیش نظر شمالی اضلاع کے لیے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ الرٹ تو جاری کر دیا گیا ہے۔ لیکن کیا حکومت اس بار اس طرح کے موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟ اور حکومت کی جانب سے کس قسم کے اقدامات کیے گئے ہیں؟

پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے ترجمان انور شہزاد کے مطابق محکمۂ موسمیات کی تازہ پیش گوئی کے مطابق صوبے کے شمالی اضلاع میں معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں جبکہ درجہ حرارت مجموعی طور پر معمول کے قریب رہنے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس جنوبی اضلاع میں معمول سے کم بارشیں ہوں گی، تاہم درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے، جس کے باعث میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے شمالی اضلاع میں بڑی تعداد میں گلیشیئرز موجود ہیں اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ان کے تیزی سے پگھلنے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق اگر بارشوں کا سلسلہ بھی جاری رہا تو گلیشیائی جھیلوں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قدرتی بند ٹوٹنے اور گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ کے واقعات رونما ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:محکمہ موسمیات نے پرسوں سے مون سون بارشوں کی پیش گوئی کردی

ترجمان نے بتایا کہ انہی خدشات کے پیش نظر پی ڈی ایم اے نے اپر چترال، لوئر چترال، اپر دیر، لوئر دیر، سوات، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، بٹگرام اور ہزارہ ڈویژن کے دیگر حساس اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو گلوف الرٹ جاری کیا ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی، ہنگامی منصوبوں کو فعال رکھنے اور عوام کو بروقت آگاہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔

انور شہزاد نے مزید بتایا کہ حکومت نے مون سون سیزن کے لیے پہلے ہی جامع کنٹیجنسی پلان تیار کر رکھا ہے جبکہ پی ڈی ایم اے نے بھی ضلعی انتظامیہ، متعلقہ اداروں، این جی اوز اور آئی این جی اوز کے تعاون سے تفصیلی کنٹیجنسی پلان مرتب کیا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے میں وسائل کی مکمل میپنگ، مالی ضروریات کا تخمینہ اور گزشتہ برس سامنے آنے والی خامیوں کا جائزہ لے کر انہیں دور کرنے کے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمۂ موسمیات کی آئندہ 3 ماہ کی موسمی پیشگوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے حساس اور انتہائی حساس علاقوں کی پہلے ہی نشاندہی کر دی گئی ہے، خصوصاً جہاں گلیشیئرز موجود ہیں وہاں کی ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے یا قدرتی آفت سے بروقت نمٹا جا سکے۔

انور شہزاد کے مطابق تمام اضلاع میں وسائل کی میپنگ مکمل کر لی گئی ہے، ضروری سامان اور وسائل فراہم کر دیے گئے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کو مالی معاونت بھی دی گئی ہے تاکہ مون سون کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے کا ویئر ہاؤس 24 گھنٹے فعال رہتا ہے، جہاں امدادی سامان موجود ہوتا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کے پاس بھی پہلے سے امدادی اشیا اور فنڈز دستیاب رکھے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں فوری امدادی سرگرمیاں شروع کی جا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مرتبہ تمام حساس مقامات کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے، کنٹیجنسی پلان نافذ کر دیے گئے ہیں اور ریسکیو ٹیموں کو مختلف اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے۔ ان کے بقول محکمۂ سیاحت اور پٹرولنگ پولیس کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ سیاحتی مقامات پر نگرانی یقینی بنائی جا سکے اور سیاحوں کو زیادہ خطرے والے علاقوں میں جانے سے روکا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:یکم جولائی سے ملک بھر میں مون سون کا آغاز، موسلا دھار بارش اور شہری سیلاب کا خدشہ

انور شہزاد نے کہا کہ پی ڈی ایم اے محکمۂ موسمیات کی تازہ پیشگوئیوں کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً ضلعی انتظامیہ کو الرٹس اور ضروری ہدایات جاری کرتا رہتا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت اور مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

وفاقی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) نے بھی خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران شدید بارشوں اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق بلند درجہ حرارت گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ کر رہا ہے، جس سے گلیشیائی جھیلوں میں پانی کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر شدید بارشوں یا دیگر قدرتی عوامل کے باعث ان جھیلوں کے قدرتی بند ٹوٹ جائیں تو لاکھوں کیوبک میٹر پانی، پتھر اور ملبہ چند ہی لمحوں میں نشیبی علاقوں کی طرف بہہ نکلتا ہے، جس کے نتیجے میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، سڑکوں اور پلوں کی تباہی، زرعی اراضی اور رہائشی آبادیوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں گلیشیئرز کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں نئی گلیشیائی جھیلیں وجود میں آ رہی ہیں جبکہ پہلے سے موجود جھیلوں میں پانی کی سطح بھی بڑھ رہی ہے، جس سے گلوف کے خطرات مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے ماہرِ ماحولیات سید حسنین رضا نے کہا کہ موجودہ موسمی حالات کے تناظر میں شمالی خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں سے اچانک سیلاب کا خطرہ حقیقی اور تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق شدید بارشیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے عوامل ایک ساتھ موجود ہیں، جو گلوف کے امکانات میں نمایاں اضافہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران حکومت نے ابتدائی وارننگ سسٹمز، موسمی نگرانی اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات ضرور کیے ہیں، تاہم اصل چیلنج ان وارننگز کو بروقت دور دراز آبادیوں تک پہنچانا، محفوظ انخلا کو یقینی بنانا اور ضلعی سطح پر فوری اور مؤثر ردعمل فراہم کرنا ہے۔ ان کے بقول صرف الرٹ جاری کرنا کافی نہیں بلکہ اس پر مؤثر عملدرآمد ہی ممکنہ جانی و مالی نقصان کو کم کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی میں مون سون کے دوران ساحلوں پر سیپیوں کی بھرمار، وجہ کیا ہے؟

سید حسنین رضا نے خبردار کیا کہ اگر شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہا یا ایک ہی وقت میں متعدد گلوف واقعات پیش آئے تو دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں رسائی، ریسکیو آپریشنز اور بنیادی انفراسٹرکچر سے متعلق مسائل دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ گلوف کے خطرے سے دوچار علاقوں کی مسلسل نگرانی، جدید مانیٹرنگ سسٹمز، بروقت الرٹس، مقامی کمیونٹیز کی تربیت، واضح انخلا منصوبوں، باقاعدہ مشقوں اور ریسکیو و طبی امداد کی پیشگی تیاری پر خصوصی توجہ دی جائے۔

ان کے مطابق دریاؤں اور ندی نالوں کے کنارے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائی بھی خطرات میں کمی کے لیے ناگزیر ہے۔

ماہرِ ماحولیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث قدرتی آفات کی نوعیت پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے، اس لیے وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، بروقت فیصلے اور مقامی سطح پر مضبوط عملدرآمد ہی عوام کو محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال مون سون بارشوں نے بھی ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ این ڈی ایم اے کے مطابق یکم جولائی سے 13 ستمبر 2024 کے دوران بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 357 افراد جاں بحق، 668 زخمی ہوئے، جبکہ 58 ہزار 191 مکانات متاثر یا تباہ ہوئے۔ اسی عرصے میں 501 کلومیٹر سڑکیں، 42 پل اور 2 ہزار 282 مویشی بھی سیلاب سے متاثر ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام، خصوصاً پہاڑی علاقوں کے رہائشیوں اور سیاحوں کو چاہیے کہ وہ موسم کی تازہ ترین صورتحال سے مسلسل باخبر رہیں، دریا، ندی نالوں اور گلیشیائی جھیلوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے سے قبل موسمی پیش گوئی ضرور دیکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر فوری عمل کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاطی تدابیر اور سرکاری الرٹس پر عمل کرکے ممکنہ جانی و مالی نقصان کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر فضا علی کو برطانوی پارلیمنٹ میں ایوارڈ سے نواز دیاگیا

امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف

’ان کو فوری گرفتار کیا جائے‘، ٹک ٹاک کے جنون میں گاڑی دریائے کنہار میں جاگری

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملہ: وزیراعظم نے ہائی لیول جے آئی ٹی تشکیل دے دی، 60 روز میں رپورٹ طلب

ناران: ٹک ٹاک ویڈیو کے لیے سیاح نے گاڑی دریا میں اتار دی، ریفٹنگ والوں نے جان پر کھیل کر 4 افراد کو بچا لیا

ویڈیو

امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف

فٹبال ورلڈ کپ: سعودی آرامکو کی انعامی مہم، جانیے تحائف کی تفصیل

سندھ طاس معاہدہ: پانی، امن اور مستقبل کی کہانی

کالم / تجزیہ

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ

تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں