سوشل میڈیا کے پانیوں میں انسانی وقار اور تہذیب کی ناؤ مسلسل ہچکولے کھا رہی ہے۔ اس کے ناخدا نے اسے ڈیجیٹل گہرائیوں میں اتار تو دیا ہے، مگر اب بحفاظت واپسی کی کوئی تدبیر سوجھ نہیں رہی۔
معروف یونانی فلسفی ارسطو نے کہا تھا کہ ’انسان ایک سماجی حیوان ہے‘، مگر آج وہ زندہ ہوتے تو شاید یہ ضرور کہتے کہ ’انسان ایک ڈیجیٹل حیوان ہے‘۔
اس ڈیجیٹل انسان نے اپنے ارتقائی سفر میں جنگلوں کو آباد کیا، پہاڑوں کو کاٹ کر فلک بوس عمارتیں بنائیں، سمندروں میں راستے تراشے، ستاروں پہ کمندیں ڈالیں اور خلا میں تیرنے لگا۔ مگر فجور و نیک نامی، تقدیر و تدبیر، اور تہذیب و تخریب کی اس کشمکش میں وہ اپنی جبلت و فطرت کے ہاتھوں مسلسل ذلیل بھی ہوتا رہا اور عزت بھی کماتا رہا۔
اکیسویں صدی کے آغاز تک سب کچھ ٹھیک تھا، شاید۔ مگر گزشتہ بیس پچیس برسوں میں اس ڈیجیٹل انقلاب نے باقی دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص، انسانی اقدار کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
آج کا انسان موبائل فون پر ضرورت سے کہیں زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ آلہ انسانی زندگی کو سہل بناتا ہے، مگر اٹھتے، بیٹھتے، جاگتے، سوتے، کھانا کھاتے اور گاڑی چلاتے ہوئے اس کا مسلسل استعمال نہ صرف معیوب لگتا ہے بلکہ ہماری فطری عادات سے بھی انحراف کا سبب بنتا ہے۔ انہی جدید آلات کے ذریعے سوشل میڈیا کے منفی استعمال نے جو اخلاقی و سماجی زوال پیدا کیا ہے، اسے ہم مختلف انسانی طبقات میں بدلتے رویوں کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی زد میں آنے والا پہلا طبقہ وہ ہے جو ابھی تعلیم و تربیت کے ابتدائی مراحل طے کر رہا ہے۔ یہ نوخیز ذہن جو کچھ پڑھتے، سمجھتے اور سنتے ہیں، اسے پتھر کی لکیر سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں موبائل فون تھما دیے گئے ہیں یا انہوں نے سر توڑ کوشش کر کے حاصل کیے ہیں۔ یہ اس کے استعمال میں اس قدر مگن ہیں کہ اپنی گھریلو اور تعلیمی ذمہ داریوں سے بھی نابلد ہیں۔
یہ طفلانِ مکتب سوشل میڈیا کو بصد شوق استعمال کرتے ہیں، مگر گیمز میں بے پناہ وقت ضائع کرنے کے علاوہ بھی انجانے میں ان سے ایسی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں جن کے نتائج پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
اس کا بنیادی سبب سیاسی و مذہبی موضوعات میں غیر ضروری دلچسپی اور پھر ان کا پرچار ہوتا ہے۔ ہنی ٹریپ کا شکار ہونے میں تو ان کو کیا الزام دیں جب باشعور اور سنجیدہ لوگ بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔
دوسرا طبقہ ’آہو نی، آہو نی‘ لوگوں کا ہے۔ یہ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل تو ہیں، مگر عقل و دانش انہیں چھو کر بھی نہیں گزری۔ بلا سوچے سمجھے یہ ہر سیاسی و مذہبی بحث کا حصہ بنتے ہیں اور اپنی محدود معلومات اور ذاتی پسند و ناپسند کی بنا پر کچھ چیزوں، نظریات یا شخصیات کی تقدیس و تحریم کے لیے ایک سرخ لکیر کھینچ لیتے ہیں۔ اور پھر اس لکیر کے پار نظر آنے والا ہر شخص معتوب ٹھہرتا ہے۔
کونسلنگ کا ان کے ہاں سرے سے فقدان ہے۔ جامعات اور انڈسٹریل زون کے درمیان عدم روابط و عدم تعاون نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، ورنہ آخری تعلیمی دورانیے میں تربیتی ورکشاپس کے ذریعے انہیں انڈسٹری کا راستہ دکھایا جاتا تو کتنے ہی لائق و فائق بچے اپنے گھر کی ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہوتے، عملی زندگی میں خود کو تھکاتے اور یوں ایک بہتر اور شاندار سماج کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالتے۔
ہاں، مگر انہی لوگوں میں سے ایک کثیر تعداد بالکل متوازن اور معتدل راہوں پر چلتے ہوئے نہ صرف اپنا مستقبل سنوارتی ہے، بلکہ اس وقت پاکستان کے مختلف محکموں اور اداروں میں انسانی خدمات اور بہتر روزگار کے حصول میں مصروفِ عمل ہے۔
تیسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو عملی زندگی میں کامیاب ہیں۔ بڑے عہدوں پر براجمان ہیں، دور سے اجلے دکھائی دیتے ہیں، مگر قریب جائیں تو ان سے تکبر، رعونت اور تحقیر کی بو آتی ہے۔ ان کا بس چلے تو اپنے سے کم تر بلکہ اپنے ہی قبیل کے لوگوں کو نوچ کھائیں، مگر ضبط کرتے ہیں۔
البتہ یہ ضبط ان کی صفت نہیں، مجبوری ہے۔ کبھی کبھار بیچ محفل ان کے دل کی بات زبان پر آ جائے تو شائستگی کا عطر پسینے کے قطروں کے ساتھ ان کے گالوں سے ٹپکتا نظر آتا ہے۔
ان میں سے کوئی حرص و ہوس کا اندھا پجاری ہے تو کوئی جنسی ہیجان کا رسیا۔ کسی کو عہدے کا گھمنڈ ہے تو کوئی اپنی ’میں‘ کا قیدی ہے۔ یہ لوگ بھی سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعے ہمارے سماج کو فائدہ کم پہنچاتے ہیں، مگر نفرتیں گھول کر زہر آلود زیادہ کرتے ہیں۔
لیکن ان میں سے بھی کچھ لوگ بہت مثبت رویے اور اچھے اخلاق کی بنیاد پر جانے جاتے ہیں اور کمال یہ ہے کہ اسی زہر آلود فضا میں یہ محبت، امن اور باہمی احترام کا کلچر پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں۔
چوتھا طبقہ ان سب سے جدا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی روزی روٹی ہی سوشل میڈیا ہے ۔ منفی پروپیگنڈے کے ذریعے ریچ کی دوڑ میں مصروف پیشہ ور بلاگرز، وی لاگرز، ڈیجیٹل مارکیٹرز، اور منظم سوشل میڈیا سیلز۔ ان میں سے بہت سے اپنے ذاتی کاروبار اور تشہیر و تسکین پر مبنی مذموم مقاصد کے لیے اس پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں چونکہ سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کوئی چیک اینڈ بیلنس پالیسی موجود نہیں، اس لیے ان کی حیثیت سگِ آزاد کی سی ہے۔ یہ گروہ اپنے مکروہ دھندے کے لیے ایسی آگ کا انتظام کرتا ہے جس کا ایندھن مذہب، سیاست، تکفیر اور توہین جیسے موضوعات ہوتے ہیں۔ اور جب اس آگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو شاہی محلات کے شیشوں کو روشن کرتے ہیں۔ اور جو باقی رہ جاتا ہے، وہ ہے تہذیب کی راکھ کا ڈھیر، جسے ہوا اپنے ساتھ اڑا لے جاتی ہے۔
پانچواں طبقہ ایک شاندار طبقہ ہے۔ سنجیدگی، متانت اور حکمت ان کے لہجے سے عیاں ہے۔ یہ لوگ شش جہت کے شور سے دور رہتے ہیں، پڑھتے ہیں، تدبر سے کام لیتے ہیں اور پھر نتیجہ اخذ کرتے ہیں، مگر علمی و تحقیقی بدہضمی کا شکار نہیں ہوتے۔ یہ سوشل میڈیا کے منفی پراپیگنڈے کا شکار ہوتے ہیں اور نہ ہی خود کسی تخریبی سرگرمی میں ملوث ہوتے ہیں۔
ہم میں سے ہر ذی شعور شخص اسی طبقے کا حصہ بن سکتا ہے اور یہی لوگ انسانی وقار، اقدار اور تہذیب کے رکھوالے ہیں۔ تہذیبیں کبھی بھی دھماکوں سے نہیں مٹتیں، بلکہ اخلاقی، سماجی اور فکری بحران کے نتیجے میں اپنی موت آپ مرتی ہیں۔ شاید اسی لیے حضرت علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
شاخِ نازک پہ جو آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













