وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت ایک بار پھر بڑھنی شروع ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’اسلام آباد ایم او یو‘ کیا امن کا عارضی وقفہ ہے، آبنائے ہرمز کا معاملہ سب سے زیادہ اہمیت کیوں اختیار کر گیا ہے؟
کیرولین لیوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز میں شپنگ ٹریفک میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔
تیل بردار جہاز خلیج عرب کا رخ کرنے لگے
دریں اثنا نیویارک ٹائمز کے مطابق عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت ایک بار پھر بڑھنا شروع ہو گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے باوجود شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بتدریج بحال ہو رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور بحری سلامتی کے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔ تاہم اب تیل بردار بڑے بحری جہاز جنہیں سپر ٹینکرز بھی کہا جاتا ہے دوبارہ خلیج عرب کی جانب سفر شروع کر رہے ہیں۔
Shipping Traffic in Strait of Hormuz Picks Up Againhttps://t.co/y7hZn7csP7
— Karoline Leavitt (@PressSec) June 30, 2026
شپنگ اور میری ٹائم انٹیلی جنس سے وابستہ اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں حالیہ دنوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اگرچہ یہ سطح اب بھی کشیدگی سے قبل کے اعداد و شمار سے کم ہے۔
مزید پڑھیے: ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی تو مذاکرات ختم ہو جائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
ماہرین کا کہنا ہے کہ بحری کمپنیوں کی جانب سے خلیج عرب کی طرف خالی اور تیل بردار جہازوں کی روانگی اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے پرامید ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث اس اہم بحری راستے پر جہاز رانی کی سرگرمیوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔
ماہرین کے مطابق بحری آمدورفت میں دوبارہ اضافہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں اور عالمی توانائی کی سپلائی کے استحکام کے لیے مثبت اشارہ تصور کیا جا رہا ہے تاہم صورتحال پر عالمی سطح پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔













