امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والے اجلاس میں ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش پر بات چیت ہوئی جس کی امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی اور چینی قیادت نے ہرمز کو عسکریت سے محفوظ رکھنے پر اتفاق کیا اور کسی قسم کے ٹول یا فیس سسٹم کے قیام کی مخالفت کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کا دورہ چین: امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکو روبیو نے کہا کہ اجلاس میں ایران کے ساتھ جاری تنازع، خطے کی سلامتی، اور عالمی تجارت پر پڑنے والے اثرات پر بھی بات ہوئی۔
Trump and Xi Jingping being greeted by young Chinese students at the Great Hall of the People in Beijing.
Follow: @AFpost pic.twitter.com/xz2y8JyFA5
— AF Post (@AFpost) May 14, 2026
انہوں نے بتایا کہ چین نے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف اپنا مؤقف دہرایا جبکہ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا چین کی مدد کا طلب گار نہیں ہے۔
’امریکا کی پالیسی میں تائیوان پر کوئی تبدیلی نہیں آئی‘
اجلاس میں تائیوان کے مسئلے پر بھی گفتگو ہوئی جہاں صدر شی نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ تائیوان کے حوالے سے کشیدگی چین امریکا تعلقات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور تصادم یا جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا کی پالیسی میں تائیوان کے دفاع کی حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
Trump heralds 'fantastic future' for US-China relations at superpower summit in Beijing.
Trump told Xi it is "an honour to be your friend", as the Chinese leader, in less effusive tones, said the two sides "should be partners and not rivals". The talks are expected to cover a… pic.twitter.com/gFAINrkTsG
— AFP News Agency (@AFP) May 14, 2026
ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ہانگ کانگ کے پرو ڈیموکریسی پبلشر جمی لائی کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال ہوا جسے چین نے 20 سال کی سزا سنائی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ہانگ کانگ کے پبلشر جمی لائی کی رہائی کے امکانات کے بارے میں بھی بات کی اور اس کی آزادی کے لیے کسی بھی قابل عمل انتظام کو خوش آمدید کہا جائے گا۔














