کبھی کبھی تاریخ شور مچا کر نہیں آتی، خاموشی سے ایک چھوٹے سے کاغذ کے ٹکڑے پر ثبت ہوجاتی ہے۔ پھر وہی کاغذ آنے والے زمانوں میں کسی قوم کی تہذیب، شناخت، جمالیات اور فکری بلوغت کا حوالہ بن جاتا ہے۔ ڈاک ٹکٹ بھی ایسا ہی ایک خاموش سفیر ہے۔ اس کا حجم اگرچہ مختصر ہوتا ہے، مگر اس پر نقش تاریخ، ثقافت اور قومی تشخص کی کہانی نسلوں تک سفر کرتی رہتی ہے۔
30 جون 2026 پاکستان کی ڈاک ٹکٹوں کی تاریخ کا ایک یادگار دن ثابت ہوا، جب پاکستان پوسٹ نے برصغیر کے عظیم مصور، خطاط، شاعر اور مفکر صادقین کی 96ویں سالگرہ کے موقع پر دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔
اس منفرد یادگاری اجرا میں 4 ڈاک ٹکٹوں پر مشتمل ایک سووینئر شیٹ کے علاوہ 3 خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی شامل ہیں، جنہیں جسامت کے اعتبار سے دنیا کے طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک ڈاک ٹکٹ کا اجرا نہیں، بلکہ پاکستان کی فنی، ثقافتی اور تخلیقی شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا ایک منفرد اظہار بھی ہے۔

تقریب پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) کی صادقین گیلری میں منعقد ہوئی جہاں سفارتکار، دانشور، ثقافتی شخصیات اور آرٹ کے شیدائی جمع تھے۔ فضا میں رسمی سرکاری تقریب سے زیادہ ایک تہذیبی جشن کی کیفیت تھی، گویا پورا ہال اپنے عظیم فنکار کو خراجِ عقیدت پیش کر رہا تھا۔
صادقین کی یاد میں جاری کردہ دنیا کے طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ کی تکنیکی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ اس کی لمبائی 280 ملی میٹر (40*280) ہے۔ 280 ملی میٹر بظاہر ایک عدد ہے، مگر حقیقت میں یہ پاکستان کے ثقافتی اعتماد کی پیمائش ہے، جس نے عالمی ڈاک ٹکٹس کی موجودہ درجہ بندی کو بدل دیا۔
اگرچہ دنیا میں یادگاری ڈاک ٹکٹ صدیوں سے جاری کیے جا رہے ہیں، لیکن غیرمعمولی طوالت رکھنے والے، باقاعدہ استعمال کے قابل ڈاک ٹکٹوں کی عالمی دوڑ گزشتہ چند برسوں میں خاصی دلچسپ صورت اختیار کر گئی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صرف ساڑھے 3 برس کے مختصر عرصے میں یہ عالمی اعزاز 5 مختلف ممالک کے درمیان منتقل ہوتا رہا، اور ہر نئے اجرا نے اپنے سے پہلے قائم ہونے والا ریکارڈ توڑ کر ایک نیا باب رقم کیا۔

اس سلسلے کی پہلی نمایاں کڑی 30 جنوری 2023 کو سامنے آئی، جب کرغزستان (Kyrgyz Express Post) نے اقوام متحدہ کے ’بین الاقوامی سال برائے پائیدار پہاڑی ترقی‘ کی مناسبت سے 184 ملی میٹر طویل ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ چارتاش (Chaar-Tash) کے دلکش پہاڑی سلسلے کی منظر کشی سے مزین اس ڈاک ٹکٹ کو اس وقت دنیا کا طویل ترین استعمال کے قابل ڈاک ٹکٹ قرار دیا گیا۔

یہ ریکارڈ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ 12 جون 2024 کو فلپائن پوسٹ (PHLPost) نے یومِ آزادی کے موقع پر (Philippines: First Republic in Asia) کے عنوان سے ملک کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ 200 ملی میٹر (35*200) جسامت پر مشتمل یہ 3 ڈاک ٹکٹوں کی شیٹ تھی، اس میں 1898 سے 1901 تک فلپائن کی آزادی اور پہلی جمہوریہ کے اہم تاریخی واقعات کی عکاسی کی گئی ہے۔ اور یوں کرغزستان کا ریکارڈ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

چند ہی ہفتوں بعد 20 اگست 2024 کو سری لنکا نے اپنے معروف مذہبی و ثقافتی تیوہار ایسالا پیراہیرا (Esala Perahera) کے اعزاز میں 205 ملی میٹر طویل ڈاک ٹکٹ جاری کرکے عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا۔ یوں ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے دنیا کے مختلف ممالک اب صرف ڈاک ٹکٹ جاری نہیں کر رہے بلکہ فن، تاریخ اور قومی شناخت کو ایک دوسرے سے زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرنے کی خاموش مسابقت میں شریک ہیں۔

لیکن مقابلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ 30 نومبر 2024 کو فلپائن نے ایک بار پھر دنیا کے طویل ترین ڈاک ٹکٹ کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔ اس مرتبہ (Simbang Gabi sa Ilog Pasig) کے عنوان سے 234 ملی میٹر طویل یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا، جس نے چند ہی ماہ قبل قائم ہونے والا سری لنکا کا ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ منفرد ڈاک ٹکٹ فلپائن کی کرسمس سے وابستہ مذہبی روایت کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔

اس یادگاری ڈاک ٹکٹ میں دریائے پاسیگ کے کنارے واقع تاریخی گرجا گھروں اور قومی اہمیت کی حامل عمارتوں کو نمایاں کیا گیا ہے، یوں یہ ڈاک ٹکٹ محض ایک ریکارڈ ہولڈر نہیں بلکہ فلپائن کی مذہبی روایات، تاریخی ورثے اور قومی شناخت کا بصری استعارہ بھی بن گیا۔
اس کے بعد 24 اکتوبر 2025 کو رومانیہ نے اپنے عظیم الشان ’نیشنل کیتھیڈرل‘ کی تقدیس کی یاد میں 252 ملی میٹر طویل ڈاک ٹکٹ جاری کیا، جو اس وقت دنیا کا سب سے طویل قابلِ استعمال ڈاک ٹکٹ قرار پایا۔ یوں دنیا کے طویل ترین ڈاک ٹکٹ کی دوڑ میں برتری کا تاج ایک بار پھر یورپ کے سر سج گیا۔

اور پھر 30 جون 2026 کا دن آیا۔ جب پاکستان پوسٹ نے عظیم مصور، خطاط، شاعر اور مفکر ’صادقین‘ کی 96ویں سالگرہ کے موقع پر 280 ملی میٹر طویل یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا، یوں صرف ساڑھے 3 برس کے عرصے میں دنیا کے طویل ترین ڈاک ٹکٹ کا ریکارڈ 184 ملی میٹر سے بڑھتے بڑھتے 280 ملی میٹر تک جا پہنچا، اور اس سفر کی تازہ ترین منزل پاکستان بنا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان پوسٹ نے اتنا طویل ڈاک ٹکٹ کیوں بنایا؟ شاید اس لیے کہ صادقین کو مختصر پیمانوں میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ وہ صرف مصور نہیں تھے۔وہ خطاط تھے۔ وہ شاعر تھے۔ وہ فلسفی تھے۔ وہ عظیم الشان دیوار نگاریوں (Murals) کے خالق تھے، جن میں فلسفہ، فکر اور جمالیات ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ ان کے برش نے رنگوں کو بھی سوچنا سکھایا اور قلم نے حروف کو بھی تصویروں میں بدل دیا۔
فرانس کے معروف اخبار لے فیگارو (Le Figaro) نے صادقین کی فنی انفرادیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا تقابل پابلو پکاسو سے کیا تھا۔ ان کے شاہکار آج بھی ایشیا، یورپ، شمالی امریکا، افریقہ اور آسٹریلیا کے عجائب گھروں، جامعات، سفارتخانوں، سرکاری اداروں اور نجی مجموعوں کی زینت ہیں۔ ان کا فن اس بات کا گواہ ہے کہ تخلیقی عظمت جغرافیے کی پابند نہیں ہوتی۔ ایسے فنکار کو اگر دنیا کے طویل ترین ڈاک ٹکٹ پر جگہ دی جائے تو شاید یہی اس کا استحقاق بنتا ہے۔

دنیا کے طویل ترین ڈاک ٹکٹ کے تخیل اور ڈیزائین کا کریڈٹ ابو عبیدہ ایاز اور حسنین محمود کے سر ہے۔ تقریب کی ایک اور خوشگوار یاد ابو عبیدہ ایاز سے ملاقات تھی۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان پوسٹ کے سب سے کم عمر ڈاک ٹکٹ ڈیزائنر ابو عبیدہ ایاز نے قلیل وقت میں 20 سے زائد یادگاری ڈاک ٹکٹ ڈیزائن کرکے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔
ان سے گفتگو ہوئی تو ان کی آنکھوں میں پرعزم فنکار کی وہی چمک دکھائی دی جو ہر نئے تخلیق کار کے اندر ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’صادقین پاکستان کے عظیم ترین فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں، اسی لیے ان کے شایانِ شان خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے دنیا کا سب سے طویل ڈاک ٹکٹ ڈیزائن کیا گیا۔ مجھے اس کی ڈیزائننگ کا موقع ملا، جو میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ ایونٹ کا بنیادی مقصد صادقین کی 96ویں سالگرہ منانا تھا۔ اسی مناسبت سے ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹس جاری کیے گئے۔‘

ان کی گفتگو میں ایک نوجوان ڈیزائنر کی خوشی بھی تھی اور ایک پاکستانی کی فخر بھری مسکراہٹ بھی، جو اپنے ملک کے نام ایک نئے عالمی اعزاز کا گواہ بن رہا تھا۔
ڈاک ٹکٹ ہمیشہ سے ممالک کے خاموش سفیر رہے ہیں۔ یہ سرحدیں عبور کرتے ہیں۔ لفافوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ تہذیبوں کا تعارف کرواتے ہیں۔ قومی ہیروز کو زندہ رکھتے ہیں۔ اور کبھی کبھی پوری دنیا کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ایک قوم اپنے فنکاروں کو کس قدر عزت دیتی ہے۔ پاکستان پوسٹ نے صادقین کے ذریعے یہی پیغام دیا ہے۔ یہ صرف 280 ملی میٹر لمبا ڈاک ٹکٹ نہیں۔ یہ پاکستان کی فنی تاریخ، قومی شناخت، جمالیاتی شعور اور ثقافتی اعتماد کا 280 ملی میٹر طویل اعلان ہے۔
آج کی ڈیجیٹل دنیا میں، جہاں ای میل، سوشل میڈیا اور فوری پیغامات نے روایتی خطوط کی جگہ لے لی ہے، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈاک ٹکٹ اپنی اہمیت کھو چکے ہیں، حقیقت اس کے برعکس ہے۔

ڈاک ٹکٹ اب محض ڈاک ادائی کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ یہ تاریخ کے مختصر ترین مگر مؤثر ترین دستاویز بن چکے ہیں۔ ان پر ایک قوم اپنے ہیروز، اپنی ثقافت، اپنی تاریخ اور اپنے خواب ثبت کرتی ہے۔ شاید اسی لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک آج بھی یادگاری ڈاک ٹکٹوں کو اپنی قومی شناخت کے اظہار کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔
ممکن ہے آنے والے برسوں میں کوئی اور ملک اس سے بھی طویل ڈاک ٹکٹ جاری کر دے۔ ریکارڈ بدل جائیں، اعداد تبدیل ہو جائیں، لیکن یہ حقیقت برقرار رہے گی کہ 30 جون 2026 کو پاکستان نے اپنے عظیم فنکار صادقین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ یہ ڈاک ٹکٹ ہر سفر کے ساتھ دنیا کو یہ بتاتا رہے گا کہ پاکستان اپنے فنکاروں کو صرف یاد ہی نہیں رکھتا، بلکہ ان پر فخر بھی کرتا ہے۔ اور شاید یہی کسی عظیم فنکار کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے کہ اس کا فن کینوس سے نکل کر ایک پوری قوم کی شناخت بن جائے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












