اردو کے مہان ادیبوں کی پسندیدہ ہیروئن

اتوار 28 جون 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اردو میں اہل ادب نے نرگس سے زیادہ شاید ہی کسی فلمی ہیروئن کو چاہا ہو گا۔ وہ اس فلمی ہیروئن کے سحر میں گرفتار ہوئے۔ ان کے بارے میں تحریروں کی بات کی جائے تو سب سے پہلےگنجے فرشتےمیں شامل منٹو کا خاکہ ذہن میں آتا ہے، جس میں انہوں نے لکھا تھا:

ایک بات جو خاص طور پر میں نے محسوس کی وہ یہ ہے کہ نرگس کو اس بات کا کامل احساس تھا کہ وہ ایک دن بہت بڑی اسٹار بننے والی ہے مگر یہ دن قریب تر لانے اور اسے دیکھ کر خوش ہونے میں اسے کوئی عجلت نہ تھیاس کے بامِ عروج تک پہنچنے کا راز جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کا خلوص ہے جو قدم بہ قدم منزل ہا منزل اس کے ساتھ رہا ہے۔

مجید امجد کی نظمنرگسکو کون بھول سکتا ہے:

میں نےحسرت بھری نظروں سےتجھےدیکھا ہے

جب تو روز، اک نئے بہروپ میں، روز ایک نئے انداز کے سات

اپنی ان گاتی  ہوئی انکھڑیوں کی چشمکِ طناز کے سات

روز اک تازہ صنم خانۂ آہنگ میں در آئی ہے!

ایکٹریس ! روپ کی رانی ! تجھے معلوم نہیں،

کس طرح تیرےخیالوں کےبھنورمیں جی کر

کن تمناؤں کا  تلخابۂ نوشیں پی کر

میں نے اک عمر ترے ناچتے سایوں کی پرستش کی ہے

تونےاک عظمتِ صدرنگ سےجس جذبےکو

آج تک اپنے لیے مُزدِ ہزار اشک سمجھ رکھا ہے

وہ محبت مرے سینے میں تڑپتی ہوئی اک دنیا ہے

جو ترے قدموں کی ہر چاپ پہ چونک اٹھتی ہے

کاش میں بھی وہی اک عکسِ درخشاں ہوتا

دلِ انساں سے ابھرتی ہوئی موہوم تمناؤں کا عکس

ایک مانگی  ہوئی اچکن میں سمایا ہوا مامورِ فغاں شخص

جس کے پہلو میں تری روح دھڑک سکتی ہے

ادیبِ شہیر انتظار حسین بھی نرگس کے عشاق میں سے تھے۔ ایک خط میں وہ لکھتے ہیں:

میں تو نرگس کے پرستاروں میں چلا آتا ہوں۔ یوں تو نرگس کو جس رول میں بھی دیکھا اس پر دل و جان نچھاور کیے مگر جس رول کے ساتھ وہ اداکارہ میرے دل و دماغ میں رچی بسی وہ جوگن والا رول تھا ۔

پنجابی کے نامور شاعر احمد راہی نے 1954 میں معروف ادبی جریدےسویرامیں اپنی ایک تحریر میں لکھا تھا:

انتظار حسین بڑا ہنس مکھ، مرنجاں مرنج اور مجلسی قسم کا آدمی ہے۔ کبھی کسی سے الجھتا نہیں۔ البتہ فلم سٹار نرگس کے معاملہ میں بڑاٹچیہے۔ اس کا بس نہیں چلتا ورنہ راج کپور کا تو وہ منہ نوچ لے۔

اس سے پہلے 1953 میں انتظار حسین کی زیر ادارتخیالمیں نرگس کے بارے میں حمید اختر کا مضمون بھی شائع ہوا تھا اور رسالے میں اداکارہ کی تصویر بھی چھپی تھی۔

پھر انتظار حسین ہی کیا ان کے افسانوں کو انگریزی میں منتقل کرکے انہیں باہر کی دنیا میں متعارف کروانے والے ممتاز مترجم محمد عمر میمن بھی نرگس پر مرتے تھے۔ ان کے بقول:

نرگس مجھے ہمیشہ پسند رہی ہیں۔ 50 کی دہائی میں جب میں نوجوان تھا یعنی تازہ تازہ جوان ہوا تھا، اکثر فلمیں دیکھا کرتا تھا۔ اس وقت میرے نوجوان ذہن پر جن فلمی اداکاروں کا تاثر شدید تر تھا ان میں نرگس بھی تھیں۔ جوانی میں ہر شخص خواب دیکھتا ہے، مجھے کہہ لیجیے خواب دیکھنا نرگس ہی نے سکھایا۔

عربی کے ممتاز اسکالر اور اردو کے ادیب محمد کاظم کا سفرنامہمغربی جرمنی میں ایک برسدیکھیے تو وہاں  ترکی میں نرگس کی مقبولیت کا سراغ ملتا ہے:

ہجراں نے ایک ہندوستانی فلمی گاناآوارہ ہوں آسمان کا تارا ہوںگا کر ہمیں حیران کر دیا۔ اس کا اردو تلفظ تو خوفناک تھا لیکن اس نے گانے کی لے کو بہت خوبی سے نبھایا تھا۔ ہمارے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ترکی میں اس نے کافی ہندوستانی فلمیں دیکھی تھیں اور فلم سٹار نرگس ترک لوگوں میں خاص طور پر بہت مقبول تھی۔

ذکر تو اردو ادیبوں کا ہے لیکن اس سے تھوڑا انحراف کرتے ہوے پنجابی کے معروف لکھاری نادر علی کی ہڈ ورتی  بالپن دا شہرسے رجوع کرتے ہیں جس میں 1980 میں  نرگس سے ملاقات کا احوال محفوظ ہے۔

نادر علی نے نرگس سے کہا:”1945 میںہمایوںدیکھ کر عاشق ہوا تھا۔ یاد ہے آپ کو وہ گانا؟رسمِ الفت کسی صورت سے نبھائے نہ بنے!“

اس پر نرگس نے کہا کہاب آپ جیسے چٹ سِرے بڈھے عاشق ہی ملیں گے!“

نرگس نے مہمانوں کی بہت ٹہل سیوا کی۔ ان کے ساتھ نادر علی اور ان کی اہلیہ رضیہ  نے تصویر بھی بنوائی۔ نادر علی نے لکھا کہ نرگس نے سب اداسیاں مٹا ڈالیں، وہ بہت بڑے دل والی بڑی ہستی تھیں ۔

نرگس کے بارے میں ادیبوں کی یہ سب آراء قرۃ العین حیدر کی ان کی ذات سے وابستگی کو بیان کرنے کی گویا تمہید تھی۔ کیوں کہ باقیوں نے پسند کیا جب کہ انہوں نے گہرائی میں جاکر ان کی شخصیت کا جائزہ لیا۔

قرۃ العین حیدر نےکار جہاں دراز ہےمیں نرگس کے بارے میںایک عہد ساز اداکارکا عنوان دے کر لکھا ہے اور خالد حسن کے نام خطوط میں بھی ان کا تذکرہ کیا ہے۔

قرۃ العین حیدر نے بچپن میں دہرہ دون میں پہلی دفعہ جو ہندوستانی فلم دیکھی تھی، اس کا نامبیرسٹر کی بیویتھا،اس میں نرگس نےچائلڈ اسٹارکےطورپرکام کیاتھااوراشتہارات میں ان کانام بےبی رانی شائع ہواتھا۔

قرۃ العین حیدر کے بقول:

مظہر بھائی مرحوم میری اور توفیق رفعت (آگے چل کر انگریزی کے ممتاز پاکستانی شاعر کی حیثیت سے معروف ہوئے) کی انگلی تھامے تا کہ ہم بھیڑ میں کھو نہ ہو جائیں دہرہ دون کے پلیڈیم سینما میں پکچر دکھانے لے گئے تھے۔

اس زمانے میں فلموں کے اشتہار میں آج شب کو ملا کرآجشبکولکھا جاتا تھا جسے وہآجش بکوپڑھا کرتی تھیں ۔ نیرنگ خیال،لاہور میں فلمی ایکٹرسوں کی تصاویر اور فلمی خبریں بھی نظر سے گزرتی تھیں ۔

بے بی رانی نرگس بن کر معروف ہوئیں تو قرۃ العین حیدر کالج میں پہنچ گئی تھیں جہاں لڑکیوں میں نرگس بہت پاپولر تھیں کیوں کہ انہیں  نرگس اپنے انداز اور وضع قطع سے فلم ایکٹریس کے بجائے عام کالج گرل لگتی تھیں۔

یہاں میرا ذہن پھرسےمنٹوکےخاکےکی طرف منتقل ہوتاہےجس میں وہ اپنی بیوی اوردوسالیوں کی نرگس سےدوستی کاتذکرہ کرتےہیں جوفون پران سےلمبی لمبی گفتگوکرتی تھیں اوران سےملنےایک دن نرگس منٹوصاحب کےہاں آن پہنچی تھیں۔

ملاقاتوں کا یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا جس کے بعد تینوں بہنیں اس نتیجے پر پہنچیں: “خدا کی قسم عجیب بات ہے کہ نرگس بالکل ایکٹرس معلوم نہیں ہوتی۔صفیہ منٹو کے خیال میں وہ بڑی گھریلو قسم کی لڑکی تھی۔

تینوں بہنیں چوری چھپے نرگس کے گھر بھی ان سے ملنے گئیں کیوں کہ فلم ایکٹریس سے ملنا بری بات تھی، اس لیے یہ بات  انہوں نے اپنی والدہ سے بھی چھپائی تھی جو منٹو کے خیال میں تنگ خیال نہیں تھی۔ منٹو کو  یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ آخر اس ملنی میں کیا برائی تھی۔ اس کے بعد وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں:

اداکاری معیوب کیوں سمجھی جاتی ہے؟ کیا ہمارے اپنے خاندان کے حلقے میں ایسے افراد نہیں ہوتے جن کی ساری عمر فریب کاریوں اور ملمع کاریوں میں گزر جاتی ہے؟ نرگس نے تو اداکاری کو اپنا پیشہ بنایا تھا۔ اس نے اس کو راز بنا کر نہیں رکھا تھا۔ کتنا بڑا فریب ہے جس میں یہ لوگ مبتلا رہتے ہیں۔

تمام تر روشن خیالی کے باوجود قرۃ العین حیدر کی والدہ کو بھی فلمی اداکاروں سے ملنا گوارا نہ تھا۔ ان کے جاننے والوں میں سے ایک صاحب فلمی ایکٹریس سے شادی کے بعد ان سے ملنے آئے تو اس نوبیاہتا جوڑے کو اذنِ باریابی نہ ملا ۔اس بارے میں قرۃ العین حیدر نے لکھا ہے:

وہ اپنے دور کی مشہور ناول نگار اور سوشل ریفارمر خاتون تھیں۔ ستار بجاتی تھیں اور کار چلاتی تھیں لیکن ایکٹرسوں سے ملنے کی وہ بھی روادار نہ تھیں۔ انہوں نے بیزاری کے ساتھ جواب دیا: کہہ دو میری طبیعت خراب ہے، بلڈ پریشر بڑھا ہوا ہے۔ ڈاکٹر نے ملنے جلنے کو منع  کر دیا ہے۔

قرۃ العین حیدر نے لکھا ہے کہ نرگس کو اپنے خاندانی بیک گراؤنڈ کے بارے میں کمپلیکس نہیں تھا، اس لیے انہوں نے ملمع کاری کرکے اپنا بیک گراؤنڈ ایجاد نہیں کیا جبکہ ایک مشہور ایکٹریس نے انہیں ایک دفعہ کہا تھا کہ وہ 14 سال کی عمر میں برقع اوڑھ کر والد کے ساتھ اسٹوڈیو جاتی تھی حالاںکہ حقیقت اس کے الٹ تھی۔

انداز’ اوربرساتمیں نرگس کے ہیروئن بن کر دلوں پر راج کرنے کا زمانہ بھی قرۃ العین حیدر کو اچھی طرح یاد تھا اورآوارہ’ کی کامیابی بھی ان کے سامنے کی بات تھی۔

انہوں نے فلمآوارہکی سوویت یونین میں مقبولیت کے بارے میں بھی بتایا ہے جہاں ہندوستانی مندوبین کو دیکھتے ہی اکثر روسیآوارہ ہوںگانا شروع کر دیتے، اسی طرح آذربائیجان میں انہیں دیکھ کر بھی نرگس راج کپور زندہ باد کے نعرے لگے۔ سوشلسٹ ملکوں میں بچیوں کا نام نرگس رکھا گیا۔ ان کی دانست میں ایسی بے پناہ مقبولیت کسی ہندوستانی اداکار کو ہندوستان یا اس سے باہر حاصل نہیں ہوئی۔  نرگس کے لیے وہ انگریزی کا یہ مقولہ نقل کرتی ہیں:

  All the world loves a lover.

آوارہ کی پذیرائی کےبارے میں انہوں نےکچھ یوں روشنی ڈالی:

دوسری جنگ عظیم کے بعد روسی ٹریکٹر اور ہتھوڑے اور درانتی والی سوشلسٹ حقیقت پسندی کی فلمیں دیکھتے دیکھتے عاجز آ گئے تھے۔ مغربی فلموں کا وہاں داخلہ ممنوع تھا۔ چنانچہ  آوارہکے ہلکے پھلکے رومانس نے ان کو مسحور کر دیا۔

آوارہمیں رومانس کے ساتھ ساتھ وہ نرگس اور راج کپور کے حقیقی زندگی میں رومانس کو بھی زیر بحث لاتی ہیں:

نرگس اور راج کپور کا رومانس بھی نئے ہندوستان کی اساطیر جدید میں شامل ہو گیا اور ایک مقبول عام رومانس کا ٹریجک ہونا بھی ضروری ہے چنانچہ نرگس راج کپور کی داستان بھی کسی فلمی ٹریجڈی کی طرح ختم ہوئی لیکن عوام خوش ہوئے جب نرگس نے شادی کی اور ایک پتی ورتا بیوی کی زندگی گزاری۔

نرگس اورقرۃ العین حیدر کا ایک دکھ  مشترکہ تھا۔ نرگس کے راجیہ سبھا کی ممبر نامزد ہونے کے بعد سلمیٰ صدیقی  نے اس خوشی میں پارٹی کی تو نرگس نے کہا کہ جب سفید داڑھیوں والے بزرگ بھی کہتے ہیں کہ وہ تو بچپن سے میری فلمیں دیکھ رہے ہیں تو عجیب سا لگتا ہے اس پر قرۃ العین نے کہا کہ یہ ریمارک انہیں بھی بہت سننا پڑتا ہے، نہایت عمر رسیدہ لوگ بھی بتاتے  ہیں وہ بچپن سے میرے افسانے پڑھ رہے ہیں ۔

قرۃ العین حیدر فلم بین ہی نہیں فلموں کی مبصر بھی تھیں۔السٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا’ میں انہوں نے کئی سال فلم ریویو لکھے۔ فلمیں دیکھنے کا انہیں نہ صرف خود شوق رہا بلکہ وہ دوستوں کو بھی اپنے پسند کی فلموں کا دیکھنا تجویز کرتی تھیں۔ خالد حسن کو دو مختلف خطوں میں انہوں نے لکھا:

شبانہ اعظمی کی ایک اور سب سے اچھی فلممعصوم’ کبھی لندن جاؤ تو دیکھنا، ارتھ بھی ضرور دیکھناجہاں اور جس طرح ممکن ہو، شبانہ اعظمی اور سمیتا پاٹل کی فلمارتھدیکھو اور منڈی۔

ایک انٹرویومیں انہوں نےلکھنؤمیں اپنےرشتےکی ممانی کاتذکرہ کیاہےجوایک دن جگت ٹاکیزمیں فلم دیکھنےجارہی تھیں۔

قرۃ العین حیدر پوچھتی ہیں کیا نرگس کی پکچر ہے؟ اس پر ممانی کہتی ہیںاے ہے نرگس کی شکل تو بمبیا آم کی سی ہے ہم لوگ نور جہاں کی پکچر دیکھنے جا رہے ہیں چلو جلدی سے تیار ہو جاؤ۔

قرۃ العین حیدر کے خیال میںنرگس نے اپنی اداکاری میں بھی کسی سستے پن کا مظاہرہ نہیں کیا اور ایک خاص وقار اور رکھ رکھاؤ اس کی شخصیت میں موجود تھا۔

قرۃ العین حیدر نے لکھا ہے کہ نرگس کی علالت کے دنوں میں آل انڈیا ریڈیو پر کسی بڑے قومی لیڈر کی طرح ان کا ہیلتھ بلیٹن نشر کیا جاتا تھا۔

نرگس کے انتقال پر خالد حسن کے نام خط میں لکھا:

ہاں نرگس ہم سب کو بہت غمگین کر گئی۔ وہ ہمارے بڑے ہونے کے زمانے میں (جو زمانہ ایک مائیتھالوجی کی حیثیت رکھتا ہے) شامل تھی۔ (جس طرح پنکج ملک کے گیت) اب ٹی وی پر اس کے پرانے فلم بہت کافی primitive معلوم ہوتے ہیں۔ اس زمانے میں کس قدر سہانے لگتے تھے۔ مگر وہ بڑے وقار سے اور بہت gracefully آگے بڑھی اور جب وہ مری تو ایک زبردست نیشنل فگر کی طرح مری۔ وہ بے حد dignified ہو گئی تھی مگر گالیاں اب بھی دیتی تھی۔ یہ اس کی شخصیت کا عجیب تضاد تھابہر حال وہ ایک fascinating خاتون تھی۔

قرۃ العین حیدر نے علی گڑھ میں ڈاکٹر نسیم انصاری کے گھر ریڈیو پر نرگس کے انتقال کی خبر سنی تھی جس کے بعد  ماحول میں سوگوار ہو گیا تھا:

کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ سب خاموش تھے۔ چند لمحوں تک کسی نے کوئی بات نہیں کی۔ عہد سرسید سے پہلے کی بنی ہوئی کوٹھی کے عمیق ڈرائنگ روم کا وہ گہرا سناٹا مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp