اسپیکر پنجاب اسمبلی مریم اورنگزیب کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب اسمبلی کے ایوانوں میں بجٹ اجلاس کے بعد ہونے والی ایک اہم ترین ملاقات نے سیاسی اور پارلیمانی حلقوں میں نئی چہل پہل پیدا کر دی ہے۔ اسپیکر ملک احمد خان اور سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی اس نشست میں جہاں ایک دوسرے کی خدمات کو سراہا گیا، وہیں ڈی پی او قصور سے متعلق تحریکِ استحقاق نے بھی گفتگو کا رخ موڑ دیا اور معاملہ ایک اہم پارلیمانی موڑ پر جا پہنچا ہے۔

 ہوا کچھ یوں کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اور سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے درمیان گزشتہ روز بجٹ اجلاس کے بعد ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی پارلیمان، جمہوریت اور جماعت کے لیے خدمات کو سراہا۔ جس پر اسپیکر ملک احمد خان نے کہا کہ پہلی مرتبہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر پنجاب کے ہر حلقے میں ترقیاتی کام کرائے جا رہے ہیں، جس سے ایک مثبت سیاسی اور جمہوری روایت قائم ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے اسپیکر پنجاب اسمبلی اور پنجاب حکومت آمنے سامنے؟ اصل معاملہ کیا ہے؟

ذرائع کے مطابق، سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سے کہا کہ ڈی پی او قصور کے معاملے پر تحریکِ استحقاق کے حوالے سے کارروائی ہو رہی ہے، اسے واپس لے لیں، حکومت ڈی پی او قصور کا تبادلہ کہیں اور کر دیتی ہے۔ جس پر اسپیکر ملک احمد خان نے کہا کہ تحریکِ استحقاق کی کارروائی مکمل ہوگی، تحریکِ استحقاق اب واپس نہیں ہو سکتی۔ یہ استحقاق پارلیمان کا مجروح ہوا ہے۔ پارلیمان کی بالادستی قائم کرنے کے لیے اس معاملے کو استحقاق کمیٹی دیکھے گی، جس کے بعد یہ کیس جوڈیشل کمیٹی پنجاب اسمبلی کے پاس چلا جائے گا۔ اور یہ پہلا کیس ہوگا جو جوڈیشل کمیٹی پنجاب اسمبلی کے پاس جائے گا۔ وہ اس کا جو چاہے فیصلہ دے، میں اس پر اثرانداز نہیں ہوں گا۔ جس پر سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بھی اتفاق کیا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی اور ڈی پی او قصور کے درمیان تنازعہ کیا ہے؟

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان اور ضلع قصور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر آفتاب پھلروان کے درمیان تنازعہ کی بنیاد پولیس کی داخلی کارروائی، پارلیمانی نگرانی اور مبینہ کردار کشی کی مہم پر ہے۔

تنازعہ کی بنیاد یہ ہے کہ ڈی پی او قصور نے ایک قتل کی کوشش کے مقدمے میں اپنے ماتحت افسران، ڈی ایس پی، ایس ایچ او اور انویسٹی گیشن آفیسر، کے خلاف سخت کارروائی کی تھی۔ الزام تھا کہ ان افسران نے ملزمان کے حق میں ضمنی رپورٹ میں تبدیلی کی اور 2 ملزمان کو بے گناہ قرار دے دیا تھا، جس کے پیچھے سیاسی دباؤ کا شبہ تھا۔

ایک سائل نے ڈی پی او کے سامنے کھلی کچہری میں یہ بات اٹھائی تو ڈی پی او نے دوبارہ انکوائری کروائی اور افسران کو معطل کر دیا۔ اس کے بعد اسپیکر اور قصور کے مقامی ایم پی اے ملک احمد سعید نے ڈی پی او کی عدم دستیابی اور ان کے بیانات پر تشویش ظاہر کی، جن میں ڈی پی او نے کہا تھا کہ وہ ایس ایچ او اور پولیس افسران کو ایم پی ایز کے ڈیروں پر جا کر مقدمات کے فیصلے کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس تناؤ کے بعد اسپیکر اور پنجاب اسمبلی کے خلاف مربوط میڈیا اور سوشل میڈیا مہم چلنے لگی، جسے کمیٹی نے ڈی پی او کے دفتر یا پی آر او سے منسلک قرار دیا۔

29 جون کو پنجاب اسمبلی کی قانون اصلاحات اور تفویض شدہ قانون سازی کمیٹی کے اجلاس میں پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے قصور میں پولیس کی مبینہ زیادتیوں، غیر عدالتی قتل اور دیگر مسائل پر نوٹس لیا۔ اسی اجلاس میں اسپیکر اور اسمبلی کے خلاف بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد مہم پر سخت نوٹس لیا گیا اور الزام لگایا گیا کہ یہ مہم ڈی پی او قصور کی ہدایت پر چلائی جا رہی ہے۔ کمیٹی نے ڈی پی او کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی اور معاملہ اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے پاس بھیج دیا۔ اسپیکر نے ممکنہ تنازع سے بچنے کے لیے اس حصے کی بحث سے خود کو الگ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان سے سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی اہم ملاقات

استحقاق کمیٹی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید علی حیدر گیلانی کی تحریک پر آئی جی پنجاب، آر پی او شیخوپورہ اور ڈی پی او قصور پیش ہوئے۔ ڈی پی او نے امن و امان کی صورتحال کے بارے میں اطمینان بخش جوابات نہ دیے، اپنے پی آر او کی جانب سے اسپیکر کے خلاف سوشل میڈیا مہم سے لاعلمی کا اظہار کیا اور اس مہم کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کا اعتراف کیا۔

 کمیٹی نے ڈی پی او کے رویے کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے رویے اور اسپیکر کے خلاف جاری کردار کشی کی مہم کی وجہ سے اسپیکر اور کمیٹی کے استحقاق اور وقار کو نقصان پہنچا ہے، جس کے بعد ڈی پی او کے خلاف انکوائری جوڈیشل کمیٹی کے پاس بھیج دی گئی، جس کے پاس افسران کو سزا دینے اور معطل کرنے کے اختیارات ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp