پنجاب اسمبلی میں حالیہ دنوں اسپیکر ملک احمد خان اور پنجاب حکومت کے درمیان اختلافات کی خبروں نے سیاسی حلقوں میں کافی بحث چھیڑ دی، تاہم اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا حکومت یا اپنی جماعت سے کوئی تنازع نہیں، وہ صرف اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
چند روز قبل پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اسپیکر ملک احمد خان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے جو ’لیکچر اور درس‘ دیا تھا، انہیں خوشی ہے کہ آج وہ خود ایوان میں اس کا عملی مظاہرہ دیکھنے آئے ہیں، تاہم گزشتہ 2 سے 3 روز کے دوران ایوان میں ہونے والی بعض تقاریر مناسب نہیں تھیں۔
مزید پڑھیں:اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان سے سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی اہم ملاقات
عظمیٰ بخاری کے اس تبصرے پر اسپیکر ملک احمد خان نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی لیکچر یا درس نہیں تھا بلکہ ’سادہ حقائق‘ تھے، جن کی نشاندہی انہوں نے اپنے آئینی اور انتظامی اختیارات کے تحت کی تھی۔
یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ’پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈر بل 2026‘ پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ بل ان کے علم میں لائے بغیر ایوان میں کیسے پیش اور منظور کرلیا گیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تاثر زور پکڑ گیا کہ اسپیکر اور پنجاب حکومت آمنے سامنے آ چکے ہیں۔
ملک احمد خان نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پنجاب حکومت سے کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے رولز پر عملدرآمد کرانا ان کی آئینی ذمہ داری ہے اور اگر کوئی معاملہ قواعد کے مطابق نہ ہو تو اس پر سوال اٹھانا ان کا حق بھی ہے اور فرض بھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر عظمیٰ بخاری نے ایوان میں یہ کہا کہ وہ لیکچر دیتے ہیں تو انہوں نے اسے ہرگز ذاتی معاملہ نہیں بنایا۔ ان کے بقول، ’میں نے جو بات کی وہ معمول کے مطابق تھی، لیکن سوشل میڈیا پر اسے اس انداز میں پیش کیا گیا جیسے میرا پنجاب حکومت کے ساتھ کوئی بڑا تنازع چل رہا ہو، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔‘
مزید پڑھیں:اسٹیلبشمنٹ نیوٹرل ہوجائے تو پنجاب میں تحریک عدم اعتماد آجائے گی، ملک احمد خان بھچر
اسپیکر نے بتایا کہ ’پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈر بل 2026‘ کے حوالے سے ان کا استفسار بالکل جائز تھا۔ بعد ازاں اسمبلی سیکریٹریٹ نے انہیں بتایا کہ جس روز بل منظور ہوا وہ اجلاس میں موجود نہیں تھے اور ان کی عدم موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر نے اس پر دستخط کیے تھے۔ تاہم انہوں نے بل پر قانونی اور طریقہ کار سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اسے مزید غور و خوض کے بعد دوبارہ ایوان میں پیش کیا جائے۔
ملک احمد خان نے سوشل میڈیا پر اپنے اور مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ سے متعلق گردش کرنے والے طنزیہ اور نامناسب مواد پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’حنا بٹ میرے بچوں جیسی ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر ایسے کیریکیچر بنائے اور تبصرے کیے گئے جو نہایت افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ تھے۔ میری اپنی جماعت کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہو سکتی، حکومت سے میرا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں۔‘
دوسری جانب پنجاب حکومت کے ایک سینیئر وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بعض حلقوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ اسپیکر شاید ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان کے معاملے پر حکومت سے ناراض ہیں، کیونکہ مذکورہ افسر استحقاق کمیٹی کے سامنے بھی پیش ہوئے تھے۔ تاہم ان کے بقول حکومت اور اسپیکر کے درمیان کسی نوعیت کا سیاسی بحران موجود نہیں، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اسپیکر ملک احمد خان کا احترام کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان بھارتی دھمکیوں کو اب میمز سمجھتا ہے، عظمیٰ بخاری کا مودی پر طنزیہ وار
حکومتی ذرئع کے مطابق اسپیکر کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی نکات کے بعد ’پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفینڈر بل 2026‘ کو روک دیا گیا ہے اور اب اس پر مزید مشاورت کے بعد دوبارہ پنجاب اسمبلی سے منظوری حاصل کی جائے گی۔
ادھر سینئر صحافی اور تجزیہ کار ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اندازِ حکمرانی میں عمومی طور پر اختلافی آوازوں کے لیے زیادہ گنجائش نہیں ہوتی، تاہم ملک احمد خان ایک فعال اور بااختیار اسپیکر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ حکمران جماعت کے بعض حلقوں میں ان کے حوالے سے تحفظات بھی پیدا ہوئے ہیں۔
ماجد نظامی نے کہا کہ ابتدا میں بھی اسپیکر کے انتخاب کے حوالے سے مختلف آرا موجود تھیں، تاہم مختلف عوامل کی بنیاد پر ملک احمد خان کو اس منصب پر لایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک احمد خان کے ریاستی اور بااثر حلقوں سے اچھے تعلقات ہیں، یہاں تک کہ انہیں مستقبل میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ممکنہ امیدوار کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شاید مسلم لیگ (ن) ایک ایسے اسپیکر کی خواہاں تھی جو نسبتاً کمزور کردار ادا کرے، لیکن ملک احمد خان نے آزادانہ انداز اختیار کرتے ہوئے خود کو ایک مضبوط اور بااختیار اسپیکر ثابت کیا ہے۔ ان کے بقول ماضی میں رانا محمد اقبال 2 مرتبہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر رہے اور اس دوران جماعت کو ان سے کبھی ایسی شکایات پیدا نہیں ہوئیں۔
تاہم ماجد نظامی کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال کسی بڑے سیاسی بحران میں تبدیل نہیں ہوگی اور اسپیکر پنجاب اسمبلی اور پنجاب حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں بالآخر دور ہو جائیں گی۔













